یمن جنگ سےخطے پر تشویشناک اثرات ہوں گے: کور کمانڈرز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یمن میں جنگ جاری رہی تو وہ خطے کی سکیورٹی پر تشویشناک اثرات مرتب کرےگی: کورکمانڈر کانفرنس

پاکستانی فوج کے کور کمانڈروں کی جمعے کو ہونے والے میٹنگ میں ملک کی داخلی صورتحال کے علاوہ یمن میں جاری جنگ پر بھی غور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ جنگ جاری رہی تو اس کے خطے کی سکیورٹی پر تشویشناک اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان کے مطابق راولپنڈی میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں منعقد ہونے والی 181ویں کور کمانڈر کانفرنس میں مشرقِ وسطیٰ اور یمن کی صورتحال اور معاملے کی سنجیدگی پر تفصیلی بات چیت کی۔

اجلاس سے خطاب میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے وہاں موجود کمانڈروں سے کہا کہ وہ اپنی توجہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے پر مرکوز رکھیں۔

انھوں نے فوجی حکام سے حکومتی ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کو بھی کہا۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ خفیہ معلومات کی بِنا پر ہونے والی کارروائیوں کو مزید سخت کیا جائے تاکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور شہروں میں موجود ان کے حامیوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

انھوں نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے بنائے گئے قومی ایکشن پلان پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

آرمی چیف نے فاٹا میں آپریشنز کے نتیجے میں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں میں باعزت واپسی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ متاثرین کی واپسی کے عمل کو بہتر انداز میں مکمل کریں۔

یاد رہے کہ اس وقت پاکستانی فوج اور یمن میں مداخلت کرنے والے ملک سعودی عرب کے درمیان سعودی عرب میں فوجی مشقیں بھی جاری ہیں۔

سعودی عرب نے پاکستانی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اسے یمن جنگ میں بّری بحری اور فضائی تعاون فراہم کرے۔ تاہم پاکستانی سیاسی قیادت نے جمعے کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں تنازعے کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

قرارداد میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر جانبدار رہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی میں یمن میں جنگ بندی کے معاملے کو اٹھائے۔

اسی بارے میں