’سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منظور ہونے والی قرارداد میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ سعودی سرحدوں کو خطرات لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا

پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن کی صورت حال پر اپنا لائحہ عمل اس انداز میں پیش کیا ہے کہ جس سے سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

یمن یا سعودی عرب میں فوری طور پر فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ بعض مبصرین اور ذرائع کی نظر میں کچھ ایسا ہی ہے۔

ایک طرف تو حکومت نے سیاسی مخالفین کی رائے بھی مان لی اور دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات سے واقف بعض سرکاری اہلکاروں کے مطابق سعودی شاہی خاندان کو بھی ناراض نہیں کیا۔

جمعے کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قرارداد میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ سعودی سرحدوں کو خطرات لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔

پارلیمنٹ سے قرارداد کی منظوری کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ق کے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ پارلیمنٹ سے اس متفقہ قرارداد کی منظوری پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

’متفقہ قرارداد اور اس کے ذریعے تنازعے میں فریق بننے کے بجائے اسے حل کرنے کی کوششوں میں شامل ہو کر پارلیمنٹ نے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے جسے پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔‘

تاہم اس متفقہ قرارداد میں ان سعودی مطالبات کا ذکر موجود نہیں ہے جو اس نے پاکستان سے بری، بحری اور فضائی افواج کی فراہمی کے بارے میں کیے تھے اور جن کا ذکر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پارلیمنٹ میں اس موضوع پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کیا تھا۔

خواجہ آصف کی سربراہی میں دو ہفتے قبل سعودی عرب میں پاکستانی وفد اور سعودی حکام کے درمیان مذاکرات کی تفصیل سے واقف ایک سرکاری اہلکار کے مطابق پاکستانی وفد میں شامل فوجی حکام بہت حد تک سعودی حکام کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہو چکے تھے کہ یمن کی جنگ کے بارے میں سعودی خدشات غیر متناسب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس متفقہ قرارداد میں ان سعودی مطالبات کا ذکر موجود نہیں ہے جو پاکستان سے بری، بحری اور فضائی افواج کے مطالبے کے بارے میں تھے

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی آپریشنز برانچ کے افسران نے سعودی فوجی حکام اور مشیران سے یمن کی صورت حال اور اس بارے میں سعودی خدشات کے بارے میں طویل بریفنگ کے بعد اپنی تجزیاتی رپورٹ سعودی حکام کو ارسال کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بھیجی گئی اس رپورٹ میں پاکستان کے فوجی حکام نے حالات اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر کہا تھا کہ یمن سے لاحق خطرات کے بارے میں سعودی فوجی اندازے درست نہیں ہیں۔

پاکستانی فوجی ماہرین کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے حکام نے یمن کی لڑائی اور اس میں شامل فریقوں کی اپنی سرحدوں سے باہر حملوں کے بارے میں استعداد کا غلط اندازہ لگایا ہے۔

پاکستانی ماہرین کا خیال ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی کے سرحد سے باہر پھیلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ان حکام کے مطابق لڑائی میں شامل جنگجوؤں کو چونکہ اسلحے کی مسلسل اور بلا روک ٹوک فراہمی کے آسان وسائل دستیاب نہیں ہیں اس لیے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس خانہ جنگی میں بھی کمی آئے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی تجزیے کی بنیاد پر حکومت نے سعودی عرب فوج بھیجنے پر فوری فیصلے کے بجائے اسے طول دینے کا فیصلہ کیا اور اس دوران سعودی حکام کو بھی قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ ان کی سرزمین یمن کی لڑائی سے براہ راست متاثر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔

ابھی تک کے حالات سے لگتا ہے کہ حکومت کی یہ پالیسی کام کر رہی ہے جس سے سعودی عرب کی ناراضی کا خطرہ بھی فی الحال نہیں ہے اور حزب اختلاف کی جماعتیں بھی خوش اور مطمئن ہیں۔

اسی بارے میں