ذکی الرحمٰن لکھوی کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی معطل کرنے کے احکامات پر بھارت میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ممبئی حملہ سازش کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی کے احکامات کی معطلی کے بعد انھیں اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

جیل حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ذکی الرحمٰن لکھوی کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق جمعے کی دوپہر ایک بجے سے قبل رہا کیا گیا۔‘

ذکی الرحمٰن لکھوی کی رہائی سے کچھ ہی دیر پہلے ان کے وکیل رضوان عباسی نے بی بی کو بتایا تھا کہ انھیں ہائی کورٹ کی جانب سے ذکی الرحمٰن لکھوی کی رہائی سے متعلق فیصلے کی مصدقہ نقل نہیں ملی۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے گذشتہ روز ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی کے بارے میں پیش کی گئی معلومات اور ریکارڈ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انھیں دس دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

پنجاب حکومت نے 14 مارچ کو ذکی الرحمٰن لکھوی کی چوتھی بار نظربندی کے احکامات جاری کیے تھے۔

اس پیش رفت سے ایک دن پہلے ہی اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے تو ذکی الرحمٰن لکھوی کو رہا کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس حکم پر بھارت میں سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔

بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے سفیر عبدالباسط کو طلب کر کے باقاعدہ ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی ختم کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

ذکی الرحمٰن لکھوی اڈیالہ جیل میں نظربند تھے جبکہ ممبئی حملہ سازش کیس اور ایک شخص کو اغوا کرنے کے مقدمے میں ان کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ انھیں امن و امان کے خدشے کے پیش نظر بند رکھا گیا تھا۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ نومبر سنہ 2008 کے ممبئی حملوں میں ذکی الرحمٰن لکھوی کے مبینہ کردار کے ٹھوس ثبوت ہیں اور پاکستانی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں جیل میں ہی رکھے۔

خیال رہے کہ ممبئی حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں