خوف کے سائے میں تعلیم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیم ’الف اعلان‘ کے مطابق سوات میں 28 فیصد بچے سکول نہیں جاتے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 120 سے زائد سکول عمارت سے محروم ہیں۔

سوات میں ایک گورنمنٹ پرائمری سکول ٹانگئی ہے جہاں 200 کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں، ان بچوں کے لیے صرف دو اساتذہ ہیں۔ عمارت کے علاوہ یہ سکول دیگر بنیادی ضروریات پینے کے پانی سے بھی محروم ہے۔

اس سکول کے استاد نثار احمد نے بتایا کہ ہمارا علاقہ شورش سے متاثرہ ہے اور ماضی میں اس علاقے میں تعلیم دشمن عناصر نے متعدد سکولوں کو نہ صرف بم دھماکوں سے اڑایا بلکہ نذز آتش بھی کر دیا۔

ان کے مطابق عمارت نہ ہونے کے باعث سیکورٹی کے حوالے سے خدشات تو موجود ہیں لیکن بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے وہ یہ خطرہ مول لینے پر مجبور ہیں۔

اس سکول کے دوسرے استاد محمد بشیر نے بتایا کہ یہاں بچے خوف کے سائے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مقامی پولیس نے اس سکول کو ہائی ویلیو ٹارگٹ قرار دے کر بند کرنے کا کہا تھا تاہم ڈیپارٹمنٹ نے سکول کھلا رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوات میں پرائمری لیول پر لڑکیوں کے 433 جبکہ لڑکوں کے 843 سکول ہیں اور ان میں 1,806 خواتین اور 3,188 مرد اساتذہ ہیں

تیسری جماعت کے طالب علم نعمت خان نے بتایا کہ انھیں سکول میں بہت ڈر لگتا ہے کیونکہ یہ بغیر عمارت کے ہے اور دہشت گرد کسی بھی وقت سکول پر حملہ کرسکتے ہیں۔

ایجوکیشن ایکٹیویسٹ ڈاکٹر جواد اقبال کہتے ہیں کہ تعلیم کی کمی نےسوات میں طالبانائزیشن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے مطابق سوات شورش سے متاثرہ علاقہ ہے اور یہاں تعلیم کا فروغ وقت کا تقاضہ ہے۔

سوات کےاسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پلاننگ اینڈ ڈیلولمینٹ فضل خالق کا کہنا ہے کہ سوات میں بغیر عمارت کے سکولوں کی تعداد 123 ہے جس میں سے سات سکولوں کو عمارتیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ باقی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیم ’الف اعلان‘ کے مطابق سوات میں 28 فیصد بچے سکول نہیں جاتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوات میں پرائمری لیول پر لڑکیوں کے 433 جبکہ لڑکوں کے 843 سکول ہیں اور ان میں 1,806 خواتین اور 3,188 مرد اساتذہ ہیں۔

انرولمنٹ کے حساب سے سوات میں 44 فیصد بچیاں سکولوں میں داخلہ لیتی ہیں مگر صرف دو فیصد ہی دسویں جماعت تک پہنچ پاتی ہیں۔ اسی طرح 49 فیصد بچے سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں لیکن صرف پانچ فیصد بچے ہی دسویں جماعت تک پہنچ پاتے ہیں۔

اسی بارے میں