’بجلی کے متنازع بل، کسانوں کا مستقبل داؤ پر‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں بجلی کے ٹیوب ویل کے متنازع بِلوں نے ہزاروں کسانوں کی کاشت کاری کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔

حکومت کے مطابق، ملک بھر میں کسانوں کو ٹیوب ویل استعمال کرنے کی مد میں 135 ارب روپے کے بِل ادا کرنے ہیں اور کسانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ان بِلوں کو ناجائز قرار دیتی ہیں۔

اِس تنازع کے نتیجہ میں ہزارہا کِسان بجلی کے محکمے واپڈا کی کتابوں میں نادہندگان بن گئے ہیں اور یہی کِسان پولیس کے مقدمات میں ڈکیتی اور امنِ عامہ میں خلل ڈالنے سمیت دہشتگردی جیسے سنگین مقدمات میں معلوم یا نامعلوم ملزمان بھی قرار دے دیے گئے ہیں۔

کسان بِل کیوں نہیں دیتے؟ سنیے

پنجاب میں ضلع بہاولنگر کے قصبہ مروٹ کے چودھری آصف بھی بجلی کے ٹیوب ویل کے پانی سے کاشتکاری کرتے ہیں۔ اِس پانی سے پانچ فصلیں بیج اور کاٹ چُکے ہیں لیکن ٹیوب ویل کا بِل مکمل ادا نہیں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ محکمہ استعمال سے کئی گُنا زیادہ بِل بھیجتا ہے۔

’ہم یہ نہیں کہتے کہ بِل نہیں دیتے۔ ہم بِل دینا چاہتے ہیں لیکن جتنا بِل بنتا ہے۔ اُتنا بِل ہم سے لیں ناں۔ اِس ماہ میرا ٹیوب ویل دس گھنٹے چلا۔ بِل 72 ہزار آیا جبکہ دس گھنٹوں کے 300 یونٹ بنتے ہیں اور تین ہزار بِل بنتا ہے۔‘

Image caption مروٹ کے چودھری آصف کا شکوہ ہے کہ واپڈا انھیں استعمال سے کئی گنا زیادہ بل بھیجتا ہے

چودھری آصف کے اِس ماہ کے بِل میں اُس رقم کی قسط بھی شامل ہے جسے حکومت واجب الادا اور کسان اضافی چارج قرار دیتے ہیں۔

تقریباً دو سال سے جاری اِس کشمکش میں آج کل اُن کا واجب الادا بِل 14 لاکھ سے تجاوز کر گیا ہے۔ انھوں نے کئی قسطیں ادا بھی کیں لیکن تاخیر اور آواز بلند کرنے کے نتیجے میں کئی مقدمات میں نامزد ملزم بن گئے۔

واپڈا کے ڈویژنل سربراہ ایکس ای این محمد ثاقب کے مطابق صرف مروٹ ہی میں واجب الادا بِلوں کی رقم 20 کروڑ سے زائد ہو چُکی ہے۔ نادہندہ کِسان سات چکُوک کے ہیں جن میں چودھری آصف اور اُن کا چک بھی شامل ہے۔

پانی و بجلی کے وزیرِ مملکت عابد شیر علی پنجاب میں ٹیوب ویل کے بِلوں کی واجب الادا رقم دس ارب روپے کے لگ بھگ قرار دیتے ہیں۔ اُن کے بقول پاکستان بھر کے کاشتکاروں نے 135 ارب سے زائد رقم کے ٹیوب ویل کے بِل ادا کرنے ہیں۔

سب سے زیادہ واجب الاد بِل بلوچستان سے ہیں لیکن پنجاب میں یہ صورتحال صوبے میں مسلم لیگ ن کے گذشتہ دورِ حکومت کے آخری چند مہینوں میں پیدا ہونا شروع ہوئی۔

وفاقی حکومت نے ٹیوب ویل کے بِلوں پر کسانوں کو ملنے والی سبسِڈی ختم کرنا شروع کی تو ماہانہ بِل اُن کی اوسط آمدن سے کہیں زیادہ آنے لگے۔

اپنے حالات فیصلہ سازی کے ایوانوں تک پہنچانے کے لیے پنجاب کے کسانوں نے ’پاکستان کسان اتحاد‘ کے نام سے تنظیم بنا لی جس کا واحد ایجنڈا ٹیوب ویل کے بِلوں کو قابلِ برادشت حد تک لانے کے لیے حکومت کو راضی کرنا تھا۔

کِسانوں نے کبھی اضافی تو کبھی مکمل بِل بھرنا چھوڑ دیے جو جمع ہوتے ہوتے کروڑوں میں پہنچ چُکے ہیں۔

Image caption عابد شیر علی کے بقول پاکستان بھر کے کاشتکاروں نے 135 ارب سے زائد رقم کے ٹیوب ویل کے بِل ادا کرنے ہیں

لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے کسانوں کی صورتحال کو وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا اور اُس کے تحصیل اور ضلعی سطح کے رہنما کسانوں کے موقف کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔

مبصرین کے مطابق گذشتہ انتخابات کے بعد جب وفاق میں بھی ن لیگ کی حکومت آئی اور بجلی کے بحران سے نمٹنے کا بوجھ اُس کے کندھے پر منتقل ہوا تو اِس بوجھ میں ٹیوب ویل کے واجب الادا بِل بھی شامل تھے چنانچہ اِن کی عدم ادائیگی اور پنجاب میں بِلوں کے خلاف جاری غیر معمولی احتجاجی تحریک حکومت کی نظر میں قانوناً جرم بن گئی۔

وزیرِ مملکت عابد شیر علی اِس تاثر کو بے بنیاد اور غلط قرار دیتے ہیں۔ واجب الاد بِل وصول کرنے پر اُن کا موقف دو ٹوک ہے: ’پانچ فیصد کِسان گندے لوگ ہیں۔ ہمارے محکمے کے بھی گندے لوگ ہیں۔ یہ دونوں مل کر بدعنوانی کرتے ہیں۔ وہ اضافی یونٹ کسی نہ کسی کو منتقل کر دیتے ہیں۔‘

وزیرِ مملکت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے محکمے کی بدعنوانیاں ختم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں لیکن ٹیوب ویل کے 95 فیصد واجب الادا بِل درست ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جن کے مسائل جائز ہوئے، اُن کے ساتھ بیٹھ کر طے کیا جا سکتا ہے کہ اُنہیں بِل کیسے ادا کرنے ہیں۔‘

زرعی تجزیہ کار خواجہ شعیب بجلی کے بِلوں کی عدم ادائیگی کی حمایت نہیں کرتے البتہ کِسان کی معاشی بدحالی کو اِس صورتحال کی وجہ قرار دیتے ہیں اور حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ’مرتا کیا نہ کرتا۔ اُس کے پاس کچھ ہو گا تو وہ ادا کرے گا۔‘

اِس تنازعے کا انجام اب تک یہ ہوا ہے کہ مروٹ میں شاید ہی کوئی کاشتکار ہو جو پولیس اور سرکاری محکموں کی طرف سے دائر کیے گئے مقدمات میں نامزد یا نامعلوم ملزم نہ ہو اور وہاں حکام اور کسانوں کے درمیان کشیدگی اور بداعتمادی عروج پر ہے۔

پاکستان کسان اتحاد کے مطابق، اُن کا اتحاد قائم ہونے کے بعد سے اب تک، کسانوں کے خلاف مقدمات میں نامزد یا نامعلوم ملزمان کی تعداد تقریباً 50 ہزار ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں