’اماراتی وزیر کا بیان پاکستانیوں کی عزتِ نفس کی ہتک ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بین الاقوامی تعلقات کے تمام مروجہ اصولوں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر کا بیان سفارتی آداب کے منافی ہے: چوہدری نثار

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ یمن کے تنازعے میں پاکستان کے غیر جانبدار رہنے کے فیصلے پر متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ کی تنبیہ پاکستانی قوم کی عزتِ نفس کی ہتک کے مترادف ہے۔

اتوار کو ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ یہ ایک ستم ظریفی ہی نہیں بلکہ لمحۂ فکریہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کا ایک وزیر پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

کیا سعودی عرب ناراض نہیں ہو گا

’سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی‘

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے پاکستانی پارلیمان میں یمن کے تنازعے پر غیر جانبدار رہنے کی متفقہ قرار داد منظور ہونے کے بعد جمعے کی شب ٹوئٹر پر اپنے بیانات میں اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم رائے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی اور پاکستانی کا موقف ’کاہلی پر مبنی غیرجانبدارانہ موقف کے سوا کچھ نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا تھا کہ لگتا ہے کہ اسلام آباد اور انقرہ کے لیے خلیجی ممالک کی بجائے تہران زیادہ اہم ہے

اس معاملے پر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تو ردعمل دینے سے گریز کیا تھا تاہم وفاقی وزیرِ داخلہ نے اب کہا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے تمام مروجہ اصولوں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر کا بیان سفارتی آداب کے منافی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی ایک غیرت مند قوم ہیں اور نہ صرف سعودی عرب بلکہ متحدہ عرب امارات کے عوام کے لیے بھی برادرانہ جذبات رکھتی ہے۔

تاہم وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اماراتی وزیر کا بیان پاکستان اور اس کے عوام کی عزتِ نفس کی ہتک کے برابر ہے اور اسے کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی پارلیمان نے جمعے کو متفقہ طو پر منظور شدہ قرارداد میں حکومت سے کہا تھا کہ پاکستان اس تنازعے میں غیرجانبدار رہے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کرے۔

پاکستان کے اس فیصلے کے بعد سعودی عرب کا کہنا تھا کہ پاکستان کے فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں جاری مہم پر اثرانداز نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں