تربت میں مزدوروں کی ہلاکت، جے آئی ٹی کی تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تربت واقعے میں صوبہ پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والے 20 مزدوروں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں 20 مزدوروں کی ہلاکت کے بعد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی۔

کیچ انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جے آئی ٹی مکران کے ریجنل پولیس آفسر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی لیویز فورس کے ان آٹھ اہلکاروں سے تفتیش کرے گی جو تربت میں مزدوروں کے کیمپ کی حفاظت پر مامور تھے۔

مزدوروں کی ہلاکت کی وجہ ناقص سکیورٹی تھی

سندھ سے صحافی علی حسن کے مطابق تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے پانچ اور ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے دو مزدوروں کی نمازِ جنازہ اتوار کی صبح ان کے آبائی علاقوں میں ادا کی گئی۔

واضح رہے کہ جمے اور سنیچر کی درمیانی شب تربت کے قریب گوگدان کے جس علاقے میں مزدوروں پر حملہ کیا گیا تھا وہ انتظامی لحاظ سے پولیس کے کنٹرول میں ہے۔

تاہم کیمپ کی حفاظت کے لیے لیویز فورس کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ غفلت برتنے کے الزام میں آٹھوں لیویز فورس کے اہلکاروں کو معطل کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کیچ انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد جے آئی ٹی کے ذریعے تفتیش کے لیے لیویز فورس کے اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بی ایل ایف نے تربت میں 20 مزدوروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے

خیال رہے کہ مزدوروں کے کیمپ پر ہونے والے حملے میں 20 مزدور ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

لیویز فورس کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے مزدوروں میں سے13 کا تعلق پنجاب کے علاقے صادق آباد سے جبکہ سات کا تعلق سندھ کے علاقے تھرپارکر سے تھا۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مزدوروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بے گناہ اور نہتے مزدوروں کا قتل بلوچ قومی روایات، انسانی اقدار اور اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے اندوہناک اور بربریت پر مبنی اقدام نے بلوچ قوم کی سنہری روایات اور درخشندہ اقدار پر دنیا بھر میں سوالات کھڑے کردیے ہیں۔‘

خیال رہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نامی تنظیم نے تربت میں مزدوروں کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اسی بارے میں