پاکستان کے’آخری اور پہلے‘ گاؤں سےامن مارچ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک ہزار کلومیٹر کے اس سفر میں یہ لوگوں بارہ اضلاع اور تین صوبوں سے گزرے

پاکستان کے انتہائی شمالی علاقہ جات کے آخری گاؤں کا نام ہوشے ہے۔ یا تصویر کا دوسرا رخ اس جانب سے شروع ہوتے پاکستان کا پہلا گاؤں بھی اسے کہا جاسکتا ہے۔

یہ گلگت بلتستان کےگانچھے ضلع کا پسماندہ ترین گاؤں ہے۔ سب سے پہلا پرائمری سکول 1967 میں قائم ہوا لیکن کچھ عرصہ پہلے تک ایک بھی میٹرک پاس یہاں سے نہیں تھا۔ اس خطے کے دیگر گاؤں سے نوجوان نے پی ایچ ڈی بھی کر لی لیکن اس کی حالت تبدیل نہیں ہوئی۔

لیکن جسے اللہ دے اس سے کون لے۔ ہوشے کی مٹی ایسی ذرخیز ہے کہ اس نے پاکستان کے کئی بہادر کوہ پیماؤں کو جنم دیا ہے۔ ویسے تو پاکستان کے جنت نظیر شمالی علاقہ جات امن کا گہوارا رہے ہیں لیکن تقریباً دو سال پہلے نانگا پربت پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے میں غیرملکی کوہ پیماؤں کی ہلاکت کا سب سے زیادہ منفی اثر بھی اسی گاؤں پر ہے جہاں اب غیرملکی ٹیمیں اس تعداد میں نہیں آ رہی ہیں جیسا کے ماضی میں آتی تھیں۔

ہوشے کے گیارہ کوہ پیما اور نوجوان اب نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پورے ملک کے لیے امن کا پیغام لے کر پیدل ایک ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے اسلام آباد پہنچے ہیں۔

ایک ہزار کلومیٹر کے اس سفر میں یہ لوگوں بارہ اضلاع اور تین صوبوں سےگزرے۔ان کوہ پیماؤں میں سے اکثر نے پانچ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کی ہوئی ہیں۔ لیکن انہیں کوئی زیادہ جانتا نہیں ہے۔

بتیس روز کےاس سفر میں اس گروپ کی معاشی اور اخلاقی مدد کسی نے نہیں کی۔ گلگت کی ہی نجی تنظیم ہوشے ویلفیر آرگنائزیشن کے غلام حسین تاہم آگے بڑھے اور ان کے ساتھ اسلام آباد پہنچے۔

اس امن کے پیدل مارچ کے شرکا کا تعارف کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں تین ایسے کوہ پیما ہیں جنہوں نے پانچ اونچی ترین چوٹیاں سر کی ہوئی ہیں۔ ’حسن جان تو اب ان چوٹیوں کو سر کرنے کا دوسرا دور مکمل کرنے کے چکروں میں ہے۔ کے ٹو وہ پونے دو مرتبہ سر کر چکا ہے کیونکہ دوسری مرتبہ وہ چوٹی تک نہیں پہنچ سکا تھا۔‘

اس کے علاوہ کے ٹو سر کرنے والے غلام مہدی بھی اس مارچ میں شریک تھے۔’یہ سب کے سب بغیر آکسیجن کے چوٹیوں پر پہنچنے والے لوگ ہیں۔‘

مارچ کرنے والوں کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام بائیس یونیورسٹییوں کی ایک تنظیم انٹر یورنیورسٹی کنسورشیم فار سوشل سائنسز نے میڈیا ہاؤس میں کیا تھا۔

ہری پور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر علی خان کا ان قومی ہیروز کے بارے میں کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انھیں پاکستان میں زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ ’یہ اگر کسی دوسرے ملک میں ہوتے تو ان پر کتابیں لکھی جاتیں اور فلمیں بنتیں۔ یہ ہمارے ’ان سنگ‘ ہیرو ہیں۔‘

اس مشکل مارچ کا مقصد کیا تھا؟

غلام حسین نے بتایا کہ وہ امن اور سیاحت کے فروغ کے لیے نکلے تھے اور راستے میں جن سے انھیں زیادہ خطرہ تھا انھوں نے ہی انھیں سب سے زیادہ خوش آمدید کہا۔ ’ہمارا علاقہ اب مکمل طور پر پرامن ہے۔ ہمارے گاؤں میں کوئی غلیل سے چڑیا بھی نہیں مار سکتا اتنی سختی ہے اور امن ہے۔‘

ان کا نانگا پربت پر غیرملکیوں کی ہلاکت کے اثرات بتاتے ہوئےکہا: ’غیرملکی اب نہیں آ رہے اثر ابھی بھی باقی ہے۔ ہم روٹی اسی سیاحت کی کھا رہے ہیں اور اسی وجہ سے وہاں سے یہاں تک آئے ہیں۔‘

اس مارچ کی کامیابی سے مطمئن ان کوہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اسے دوبارہ یہاں سے شروع بھی کرسکتے ہیں۔