لاہور کا ’بلاول ہاؤس‘ کس کی ملکیت؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عام تاثر ہے کہ یہ عمارت تعمیر کے بعد ملک ریاض نے سابق صدر آصف علی زرداری کو تحفے میں دی ہے

لاہور کے جدید رہائشی علاقے میں سابق صدر آصف علی زرداری کی رہائش گاہ ’بلاول ہاؤس‘ سرکاری کاغذات میں ابھی تک سابق صدر مملکت اور ان کے خاندان کے کسی فرد کے نام منتقل نہیں ہوئی ہے۔

یہ بات اس نوٹس میں سامنے آئی ہے جو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے لگژری ٹیکس کی وصولی کے لیے بلاول ہاؤس کو بھجوایا ہے۔

بلاول ہاؤس جدیدرہائشی آبادی بحریہ ٹاؤن میں لگ بھگ اڑھائی برس پہلے تعمیر کیاگیاتھا اور صدر آصف علی زرداری صدر مملکت کی حیثت سے اس عمارت میں قیام کرتے رہے ہیں۔

آصف علی زرداری اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد جب بھی پنجاب کا دورہ کرتے ہیں تو یہیں قیام کرتے ہیں اور یہ عمارت ان کی سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ بن جاتی ہے ۔

صوبائی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے بلاول ہاؤس سے ٹیکس کی وصولی کے لیے کاروباری شخصیت اور بحریہ ٹاؤن کے منصوبہ کے مالک ملک ریاض کو نوٹس بھجوایا ہے۔

بلاول ہاؤس وزیر اعظم نواز شریف کی لاہور میں رہائش گاہ رائے ونڈ سے زیادہ دور نہیں ہے۔

بحریہ ٹاؤن میں بلاول ہاؤس کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ یہ عمارت تعمیر کے بعد ملک ریاض نے سابق صدر آصف علی زرداری کو تحفہ میں دی ہے اور بلاول ہاؤس زرداری خاندان کی ملکیت ہے۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے نوٹس کے مطابق بلاول ہاؤس پر 36 لاکھ روپے لگژری ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور بروقت ادائیگی نہ کرنے پر تقریباً تین لاکھ سرچارج ادا کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

وسیع رقبے پر تعمیر ہونے والی یہ قلعہ نما عمارت دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ رہائش کے لیے ہے جبکہ دوسرا حصے میں پارٹی سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس گھر میں ہیلی پیڈ کے علاوہ اس کے اندر کئی ہزار افراد کا اجتماع ہو سکتا ہے۔

لاہور میں یہ تیسری عمارت ہے جسے بلاول ہاؤس کے نام سے منسوب کیاگیا ہے۔ بحریہ ٹاؤن سے پہلے کینٹ اور ماڈل ٹاؤن کے علاقوں میں بلاؤل ہاؤس قائم کیےگئے تھے۔

سابق آصف علی زرداری نے اپنے خلاف مقدمات سے رہائی کے بعد لاہور میں قیام کے لیے کینٹ کے علاقے میں کرائے پر لیے گئے ایک مکان کو بلاؤل ہاؤس کا نام دیا تھا۔

تاہم آصف علی زرداری کے بیرون ملک جانے کے بعد اس عمارت کو خالی کر دیا گیا۔اس طرح بلاول ہاؤس کو کینٹ سے ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ایک کرائے کے گھر میں منتقل کر دیا ۔بعد ازں یہ عمارت بھی چھوڑ دی گئی۔

اسی بارے میں