سنی کا پنجرہ اب خالی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنی کو 2007 میں لاہور لایا گیا تھا

پاکستان بھر کے تمام چڑیا گھروں کا واحد زرافہ ’سنی‘ فوت ہو گیا ہے۔

سنی کی موت کی اصل وجہ کیا ہے، یہ تو پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے پر ہی پتہ چلے گا تاہم چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ کئی علامات سے لگتا ہے کہ سنی کی موت حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث ہوئی۔ اور اسے دل کا دورہ پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے پڑا۔

لاہور کے چڑیا گھر کے ڈائریکٹر شفقت علی نے بی بی سی کو تفصیلات بتائیں:

’اس کی موت سے پہلے کوئی ایسی علامت دکھائی نہیں دی۔ یہ سب اچانک ہوا ہے۔ اور ہماری ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایسے ہی لگ رہا ہے کہ اس کے دل نے کام کرنا بند کر دیا۔ پھر ہم نے ویٹرنری یونیورسٹی کی ٹیم کو بلایا اور انھوں نے معائنہ کیا۔ ان کا بھی یہی خیال تھا کہ پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے سنی کو دل کا شدید دورہ پڑا اور وہ ہلاک ہو گیا۔ تاہم ابھی حتمی رپورٹ آنا باقی ہے، جس کے بعد ہی اصل وجہ معلوم ہو گی۔‘

چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز 35 ہزار سیاحوں نے چڑیا گھر کا دورہ کیا۔ وہ سنی سے محظوظ ہوتے رہے اور سنی بالکل ہشاش بشاش دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے معمول کے مطابق خوراک بھی کھائی اور اس کی سرگرمیوں میں کوئی غیرمعمولی چیز نہیں دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زرافے میں پھپھڑوں کے سرطان کی تشخیص کے لیے کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور اکثر اس کا پتہ آخری مرحلے میں ہی چلتا ہے۔

2007 میں سنی اور دو مادہ زرافوں کو افریقہ سے لاہور کے چڑیا گھر کے لیے درآمد کیا گیا تھا۔ دونوں مادہ زرافے پہلے ہی مر چکی ہیں۔ لاہور کا چڑیا گھر مال اور لارنس روڈ جیسی مصروف شاہراوں کے سنگم پر واقع ہے، اور یہاں ہر وقت ٹریفک کے شدید دباؤ کے باعث ماحولیاتی آلودگی کافی زیادہ رہتی ہے۔

چڑیا گھر کی آب وہوا ویسے بھی بہت سے جانوروں کے قدرتی ٹھکانوں اور ماحول سے کافی مختلف ہے۔ اس سے پہلے بھی یہاں کئی جانور ٹی بی اور پھپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

کچھ بڑے جانوروں کو شہر کی بھیڑ سے دور لاہور سفاری پارک منتقل کرنے کی تجاویز بھی زیرغور آ چکی ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

چڑیا گھر کےڈائریکٹر شفقت علی ماحولیاتی آلودگی کے جانوروں کی صحت پر برے اثرات سے تو متفق ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کو سنی یا دوسرے جانوروں کی موت کا بڑا سبب قرار دینا مناسب نہیں۔

’اس جگہ کی ایک تاریخ ہے۔ اسے کسی اور جگہ پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ سنی نے آٹھ برسوں کے دوران چڑیا گھر آنے والے لگ بھگ تین کروڑ سیاحوں خاص کر بچوں کو محظوظ کیا۔ جانوروں کی دیکھ بھال کی کوشش تو کی جاتی ہے، لیکن ہر جانور کی ایک عمر ہوتی ہے۔‘

سنی کی موت کے بعد اب پاکستان کے کسی چڑیا گھر میں کوئی زرافہ موجود نہیں۔ لاہور کے چڑیا گھر نے مادہ زرافے منگوانے کا عمل پہلے ہی شروع کر رکھا تھا تاہم اب اس میں ایک نر زرافے کو بھی شامل کیا جائے گا۔

تاہم جب تک نئے زرافے نہیں آئیں گے سنی کا خالی پنجرہ بچوں کو اس کی یاد دلاتا رہے گا۔