’اورکزئی ایجنسی میں بمباری سے شہریوں کی ہلاکت‘

Image caption اورکزئی ایجنسی میں 2010 میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی ہوئی تھی

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے فضائی حملوں میں چار شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جن میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔

ان کارروائیوں میں کم سے کم 12 شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر کی شام سکیورٹی فورسز کی طرف سے اچانک وسطی اورکزئی ایجنسی کے علاقوں میں کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شدت پسندوں کے مراکز اور ٹھکانوں پر شدید شیلنگ کی ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں واقع بعض آبادیاں بھی نشانہ بنی ہیں جس میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں، تاہم سرکاری اور فوجی ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ آپریشن میں سات عام شہری زخمی بھی ہوئے جنھیں ہنگو منتقل کر دیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہنگو کے انچارج ڈاکٹر اکبر جان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اورکزئی ایجنسی میں کارروائیوں کے دوران زخمی ہونے والے سات افراد کو یہاں لایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ زخمیوں میں تین خواتین اور چار بچے شامل ہیں جن میں ایک زیر علاج ہے، جبکہ دیگر افراد کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں اب تک کم سے کم دس شدت پسند مارے گئے ہیں۔ ہنگو میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح بھی گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تاہم ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں مل سکیں۔ انھوں نے کہا کہ چند دن پہلے حکومت کی جانب سے مقامی لوگوں کو علاقے سے نکل جانے کا کہا گیا تھا۔

ادھر اس آپریشن کے حوالے سے تاحال سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ کارروائی وسطی اورکزئی کی ان علاقوں میں کی گئی ہے جہاں چند دن پہلے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں چار اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔ اس علاقے میں شیخان اور مشتی قبائل آباد ہیں۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مارچ 2010 میں اورکزئی ایجنسی میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایجنسی کے بیشتر مقامات شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے تھے تاہم وسطی اورکزئی میں کوئی کاروائی نہیں کی گئی تھی۔

آپریشن کے باعث لاکھوں افراد نے بے گھر ہو کر ہنگو اور دیگر علاقوں میں پناہ لی تھی ہے جو بدستور پناہ گزین کیمپوں یا کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں قبائلی علاقوں سے بے داخل ہونے والے متاثرین کی واپسی کا اعلان کیا ہے جن میں اورکزئی کے متاثرین بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں