’برطانیہ کو بھی مطلوب افراد ہمارے حوالے کرنا ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’بی بی سی پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے سے متعلق دستاویزی فلم چلنے کے بعد معظم علی روپوش ہوگیا تھا‘

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں پاکستان میں گرفتار ہونے والے کسی بھی ملزم برطانیہ کے حوالے کیا گیا تو اس کے بدلے میں برطانیہ کو بھی پاکستان کو مطلوب افراد حوالے کرنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے تاہم اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت منشیات، دہشت گردی اور سنگین مقدمات میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے پابند ہیں۔

حیربیار پاکستان کو مطلوب: وزارت داخلہ

حیربیار پر دہشگردی کا مقدمہ

بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ منگل کے روز برطانوی ہائی کمشنر کے ساتھ ملاقات میں یہ واضح کیا گیا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں پاکستانی حکومت برطانوی تفتیشی اداروں سے مکمل تعاون کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو کسی ملزم کے مطلوب ہونے کی صورت میں برطانوی حکومت کو بھی ایسے ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث شخص معظم علی کو 90 روز کے لیے حراست میں رکھنے کی منظوری دی ہے

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں تینوں افراد کو پاکستانی خفیہ اور سکیورٹی اداروں نے حراست میں لیا ہے، جن میں سید محسن علی، کاشف خان اور معظم علی شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والا ملزم معظم علی لندن میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مرکزی کردار ہے جن سے تفتیش کے لیے مشترکہ تحققیاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت اس مقدمے میں کسی سیاسی جماعت کو نشانہ نہیں بنا رہی بلکہ اس مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈاکٹر عمران فاروق متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین کے دستِ راست سمجھے جاتے تھے

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل گرفتار ہونے چاہییں اور دوسری طرف اسی جماعت کی قیادت اس مقدمے کی تفتیش کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اس معاملے پر واضح موقف کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بی بی سی پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے سے متعلق دستاویزی چلانے کے بعد معظم علی روپوش ہوگیا تھا اور ایک سال کے بعد اُس کے زیر استعمال موبائل فون کی مدد سے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں