غیر ملکی ایجنسیاں بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے سے باز رہیں: جنرل راحیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی تمام مذموم کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا اور ایسی کوششوں کو شکست سے دوچار کیا جائے گا‘

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے غیر ملکی ایجنسیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں دہشت گردوں کی مدد کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے سے باز رہیں۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں 20 مزدوروں کے قتل کے واقعے کے بعد یہ آرمی چیف کا کوئٹہ کا پہلا دورہ تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی، جس میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصرخان جنجوعہ نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کو آئی جی فرنٹیئر کور میجر جنرل شیر افگن نے بریفنگ دی اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے آگاہ کیا۔

فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے 20 مزدوروں کے سفاکانہ قتل کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔

فوج کے سربراہ نے بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کو ہر قسم کی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی تمام مذموم کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا اور ایسی کوششوں کو شکست سے دوچار کیا جائے گا۔

انھوں نے بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال میں نمایاں بہتری پر فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن اور خوشحالی کے لیے وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں، ان کے ہمدردوں اور انھیں مالی مدد فراہم کرنے والوں کا کھوج لگایا جائے گا اور انھیں ملک میں کہیں بھی جائے پناہ نہیں ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جایا جا سکتا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے بلوچستان میں سیکورٹی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے سویلین اور فوجی قیادت کی مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی بارے میں