شریف خاندان کی شاہی خاندان سے ملاقاتیں

Image caption شہباز شریف کی قیادت میں اس سرکاری وفد نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات کی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ اور وزیرِاعظم نواز شریف کے بھائی شہباز شریف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے جدہ میں ملاقات کی ہے۔

اس وفد میں شہباز شریف کے علاوہ قومی سلامتی اور امورِ خارجہ کے لیے وزیرِ اعظم کے مشیر سرتاج عزیز اور سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری بھی شامل ہیں۔ وفد کے ارکان سعودی حکام اور شاہی خاندان کے بعض دیگر اہم ارکان سے ملاقاتیں کریں گے۔

جدہ پہنچنے پر پاکستانی وفد کا استقبال اعلیٰ سعودی حکام نے کیا جس کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں سرکاری وفد نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات کی۔

دو گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات میں یمن کی تازہ صورتحال زیر بحث آئی اور پاکستانی وفد نے سعودی وزیر خارجہ کو اس بحران کے بارے میں حکومت پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ وفد بدھ کے روز ہی ریاض روانہ ہو جائے گا جہاں ان کی ملاقات سعودی فرماروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے متوقع ہے۔

اعلیٰ پاکستانی حکام کے اس دورۂ سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال خصوصاً یمن میں سعودی کارروائی کے پیش نظر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

پاکستانی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے شہباز شریف کی قیادت میں اس وفد کے سعودی عرب جانے کی اہمیت کے بارے میں بدھ کی صبح صحافیوں کو بتاتے کہا کہ یہ وفد پاکستان کے اخلاص کا آئینہ دار ہے۔

’شہباز شریف کی اس وفد میں موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے اور یہ کہ سعودی عرب پاکستانی عوام کے دلوں کے کتنے قریب ہے۔ یہی پیغام ہم نے سعودی عوام اور حکومت تک پہنچانا چاہتے ہیں۔‘

سعودی عرب نے چند ہفتوں سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف عسکری کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

اسی سلسلے میں سعودی عرب نے پاکستان سے بّری، بحری اور فضائی تعاون اور مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔

تاہم پاکستانی پارلیمان نے اس درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد میں کہا تھا کہ ملک کو اس تنازعے میں اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنی چاہیے اور اس تنازعے کے حل کے لیے ثالثی کی پیش کش کی تھی۔

اس قراداد کی منظوری کے فوراً بعد پاکستان کے دورے پر آئے سعودی وزیر برائے مذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز نے ثالثی کی اس پیشکش کو مذاق قرار دیا تھا۔

Image caption اعلیٰ پاکستانی حکام کے اس دورۂ سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال خصوصاً یمن میں سعودی کارروائی کے پیش نظر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے

سعودی عرب کے اس ردعمل کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے یمن کے بحران کے بارے میں پالیسی بیان کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی تھی جو پارلیمان کی قرار داد کے بعد سے دباؤ کا شکار دکھائی دے رہے تھے۔

بعض سفارتکاروں کا خیال ہے کہ شہباز شریف کی سربراہی میں پاکستانی وفد کا سعودی عرب جانا نقصان کے ازالے کی کوشش ہے اور اب حکمران خاندان اپنے ذاتی تعلقات استعمال کر کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں آنے والے اس ناخوشگوار واقعے کو شاہی خاندان کے ساتھ ذاتی تعلقات کے ذریعے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یمن میں سابق پاکستانی سفیر ظفر ہلالی کہتے ہیں کہ یہ وفد دو ملکوں کے خاندانوں کا نمائندہ ہے۔

’ایک طرف سعودی شاہی خاندان ہے اور دوسری طرف پاکستانی شاہی خاندان ہے۔ اور یہ تعلقات دو ریاستوں نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان ہیں اور شہباز شریف کی آج بدھ کو سعودی عرب روانگی یہ بات ثابت کرتی ہے۔‘

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد سعودی حکام کے ساتھ یمن کا معاملہ اقوام متحدہ اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم او آئی سی میں اٹھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کرے گا۔

اسی بارے میں