’پتھر پیسنے کے کارخانوں سے سینکڑوں متاثر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’میرے گاؤں میں چار افراد اس بیماری کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔ اور جب میں نے لوگوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ گجرانوالا کے چار گاؤں سے اٹھارہ افراد کی موت ہوئی‘

پاکستان کی سپریم کورٹ کے احکامات پر نوجوان وکلا نے بدھ کو پتھر پیسنے والے پانچ کارخانوں کا دورہ کیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ وہاں مزدوروں کو حفاظتی سازوسامان فراہم کیا جاتا ہے یا نہیں۔

ان وکلا نے گذشتہ برس جولائی میں سپریم کورٹ میں ضلع گوجرانوالہ میں واقع ان کارخانوں میں ایک لاعلاج بیماری کی وجہ سے 18 مزدوروں کی ہلاکت کے سلسلے میں درخواست دائر کی تھی۔

مقدمے کے نو ماہ بعد معلومات منظرِ عام پر آئی ہیں کہ ملک کے مختلف اضلاع میں ایسی صنعتوں میں کام کرنے سے تین سو پچاس افراد متاثر ہوئے ہیں۔

تاہم نہ فیکٹریوں کے مالکان اور نہ ہی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

اسامہ خاور جب گذشتہ سال ضلع گوجرانوالہ میں اپنے گاؤں نھت کلر گئے تو انھیں معلوم ہوا کہ پھیپھڑوں کی بیماری کے باعث کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں جو سب پتھر پیسنے والی فیکٹری میں کام کرتے تھے۔

’میرے گاؤں میں چار افراد اس بیماری کے باعث ہلاک ہوئے ہیں اور جب میں نے لوگوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ گوجرانوالہ میں چار دیہات میں 18 افراد کی موت ہوئی۔‘

اسامہ خاور کا تعلق پبلک لائرز فرنٹ سے ہے جو عوامی مفاد کے مقدمات کو عدالتوں تک لے کر جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اس فرنٹ کی درخواست میں بتایا گیا کہ ان مزدوروں کی اموات سلیکوسس نامی پھیپھڑوں کی بیماری سے ہوئی جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔

درخواست کے مطابق یہ مزدور بڑے بڑے پتھروں کو ایک مشین میں ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے اڑنے والی دھول ان کے جسم میں داخل ہوتی ہے اور مزدور پھر پسے ہوئے پتھروں کو تیزاب میں ملا کر بوریوں میں بند کرتے ہیں۔

Image caption ’ہم نے دو مریضوں کو عدالت میں 14 اپریل کی سماعت کے دوران پیش کیا۔ ان دونوں کے خاندان سے بھائی اور بہنوئی اس بیماری کی وجہ ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک تو ویل چیئر پر ہے‘

پبلک لائرز فرنٹ کا دعویٰ ہے کہ اس تمام عمل کے دوران مزدوروں کو حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جاتا اور اگر اس دھول کے اثرات کی وجہ سے موت واقع ہو تو معاوضہ بھی نہیں ادا کیا جاتا۔

اسامہ خاور نے بتایا کہ نو ماہ کی سماعتوں کے دوران کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ’اس دوران کبھی لیبر کا محکمہ مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری کہتا، سوشل سکیورٹی کا محکمہ ماحولیاتی ڈپارٹمنٹ پر ڈال دیتا ہے۔ اور اس کیس کی سماعت کے دوران چار مزید اموات واقع ہو گئی ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت اسامہ خاور، سپریم کورٹ کی ایک اہلکار اور گوجرنوالہ کے لیبر ڈائریکٹر نے پانچ فیکٹریوں کا دورہ کیا جہاں صرف ایک میں کچھ حد تک حفاظتی تدابیر اختیار کی گئیں تھی، تین میں نہیں تھیں اور ایک میں اس تحقیقاتی ٹیم کو داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا۔

’جب ہم آخری فیکٹری ماسٹر ٹائلز پہنچے جو کامونکی کے پاس واقع ہے، تو نہ وہاں کے گارڈ اور نہ فیکٹری کے انتظامیہ نے ہمیں داخل ہونے دیا۔ یہ تو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے اور ہم جمعرات کی سماعت کے دوران عدالت کو بتائیں گے۔ پندرہ منٹ بعد جب ہم داخل ہوئے تو انھوں نے ہمیں دفتر سے آگے تحقیقات کرنے کے لیے آگے جانے نہیں دیا۔‘

پبلک لائرز فرنٹ کا کہنا ہے کہ ان نو ماہ کے دوران سنگِ مرمر اور کوئلے کی صنعتوں سے بھی مزید متاثرین سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 350 سے زیادہ ہے۔ لیکن طبی دستاویزات حاصل کرنے میں مشکل رہی ہے کیونکہ عوامی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو سلیکوسس اور ٹی بی کے درمیان فرق نہیں پتہ۔

’ہم نے دو مریضوں کو عدالت میں 14 اپریل کی سماعت کے دوران پیش کیا۔ ان دونوں کے خاندان سے بھائی اور بہنوئی اس بیماری کی وجہ ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک تو ویل چیئر پر ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پبلک لائرز فرنٹ نے اپنے خرچے سے ان دونوں مریضوں کا طبی معائنہ کروایا اور ان دونوں کو سلیکوسس ہے۔

’جب انہی کو ہم عام ہسپتال میں لے کر گئے، تو وہاں کے ڈاکٹروں نے پھیپڑوں کا ایکس رے کر کے انھیں ٹی بی کا مریض قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں میں بھی آگاہی نہیں ہے۔‘

وکلا کا یہ گروپ امید کر رہا ہے کہ اس کیس سے نہ صرف سینکڑوں مزدوروں کے لیے حفاظتی اقدامات لیے جائیں گے بلکہ ان صنعتوں کا انتظامی ڈھانچہ بھی تبدیل کیا جائے گا۔

اسی بارے میں