نادرا کو تین دن میں 37 حلقوں کی جائزہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی ٹی آئی کی ٹاسک فوس کے پاس دھاندلی کے الزامات ثابت کرنے کے لیے مختلف نوعیت ثبوت موجود ہیں جنھیں پیش کیا جائے گا: عمران خان

پاکستان میں 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن نے جائزہ رپورٹس طلب کر لی ہیں۔

کمیشن نے پاکستان تحریکِ انصاف سمیت 21 سیاسی جماعتوں کو آئندہ کارروائی سے قبل دھاندلی کے شواہد جمع کروانے کو بھی کہا ہے۔

جمعرات کو کمیشن کی کارروائی کے باقاعدہ آغاز کے موقع پر کے کے آغا کو کمیشن کا معاون مقرر کیا گیا۔

سماعت کے موقع پر چیف جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ یہ عام نہیں مختلف نوعیت کا کمیشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر عدالتی کمیشن کا اِن کیمرہ اجلاس منعقد کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل اپنے پہلے اجلاس میں کمیشن نے اپنی کارروائی عام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سماعت کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ ان کی جماعت نے ہوم ورک تو کر لیا ہے لیکن انہیں شہادتیں اور ثبوت جمع کرنے کے لیے مزید کچھ دن درکار ہوں گے، تو اس پر چیف جسٹس ناصرالمک نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن کو دی گئی 45 دن کی مدت بڑھا دی جائے؟

اس پر حفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے اور اسی دوران ان کے موکل ثبوت جمع کروا دیں گے۔ کمیشن کے سامنے بیان کے دوران عبدالحفیظ پیرزادہ اور پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔

پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمیشن نے قومی ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی ’نادرا‘ سے کہا ہے کہ وہ تین دن کے اندر ملک کے 37 حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی فورینزک رپورٹ پیش کرے۔

کمیشن نے تحریک انصاف کی معروضات پر الیکشن کمیشن سے ایک ہفتے میں جواب طلب کیا جبکہ پی ٹی آئی کو بھی دھاندلی سے متعلق الزامات کے شواہد اور دستاویزات پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔

جمعرات کے اجلاس کے بعد کمیشن کی کارروائی ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کے مطالبے پر بنایا جانے والا عدالتی کمیشن 45 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ حکومت کو بھجوائےگا۔

کمیشن کو سول اور فوجداری عدالتوں کے اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ اس کی تحقیقات کےلیے کسی بھی سرکاری اہلکار کو طلب کرسکتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف گذشتہ سال اگست میں احتجاجی تحریک چلائی تھی جس کے بعد تین ماہ سے زیادہ عرصے تک اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا گیا تھا۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جمعرات کو عدالتی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تحریکِ انصاف کے علاوہ 21 سیاسی جماعتوں اور گروہوں نے گواہی دینی ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی جمہوریت کے لیے یہ ایک سنہرا دن ہے، جو بھی اب اس میں ہوگا، پاکستان کی جمہوریت مضبوط ہوگی۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کے پاس موجود شواہد سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی ٹاسک فوس کے پاس دھاندلی کے الزامات ثابت کرنے کے لیے مختلف نوعیت ثبوت موجود ہیں جنھیں پیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف نے خود ہری پور میں اپنی تقریر میں کہا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ تو اس بات پر اتفاقِ رائے ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے اور حکومت کے پاس حکمرانی کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رہا ہے۔‘

اسی بارے میں