بدلتے تقاضوں میں بدلتی فوجی حکمت عملی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی فوج بالآخر شدت پسندوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہی ہے اور ان میں سے بہت سی کامیابیاں اصل میں ان جدید تربیتی مراکز کی مرہون منت ہیں جہاں فوجیوں کو غیر روایتی طریقوں سے تربیت دی جاتی ہے۔

کھاریاں کے قریب گھنے جنگل میں پاکستان کی فوج نے ایک وسیع تربیتی مرکز قائم کیا ہے جہاں فوجیوں میں یہ صلاحیت پیدا کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی ٹکڑیوں یا چھوٹے گروپوں پر قابو پا سکیں۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی بھی ان آدھے درجن تربیتی مراکز میں شامل ہے، لیکن پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے لڑنے والے 65 فیصد فوجی پنجاب میں کھاریاں کے قریب واقع تربیتی مرکز سے تربیت حاصل کرنے والے جوان ہیں۔

اس سال کے شروع میں پاکستان کی فوج نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کو اس ڈھائی ہزار ایکڑ پر پھیلی تربیت گاہ کا دورہ کرایا۔ یہ تربیت گاہ 2009 میں شروع کی گئی تھی۔

یہ تربیت جو غیر روایتی طریقوں سے دی جاتی ہے اس کا مقصد پاکستانی فوج کے جوانوں کو دست بدست لڑائی میں مہارت دینا ہے۔

گو کہ پاکستانی فوج کے لڑاکا دستوں کو گذشتہ ایک دہائی کے دوران انتہائی دشوار گزار علاقوں، سنگلاخ پہاڑوں اور ندی نالوں میں دہشت گردوں سے نبرد آزما ہونے کا تجربہ حاصل ہو گیا ہے لیکن اب بھی زیادہ تر فوج تربیت کے اعتبار سے روایتی دشمن بھارت کے خلاف پنجاب اور سندھ کے میدانوں اور ریگزاروں میں ٹینکوں کی لڑائی کو ذہن میں رکھ کر تیار کرگئی ہے۔

اس تربیت گاہ کے سربراہ بریگیڈیئر علی اکبر نے کہا: ’نائن الیون کے بعد سے یہ اب ایک نئی دنیا ہے اور ہم اس نئی دنیا کی حقیقتوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں۔‘

ہمارے تجرنے کے مطابق یہ کسی بڑی فوج کے خلاف لڑائی نہیں ہے۔ ہمیں چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں لڑنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہو گی۔‘

برسوں سے امریکی قانون ساز اور جرنیل اس کوشش میں ہیں کہ وہ پاکستان کی فوج کو اپنی دفاعی حکمت عملی کو تبدیل کر کے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کو ترجیح بنانے پر آمادہ کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ispr
Image caption پببی کے تربیتی مرکز کا جنرل راحیل شریف نے دورہ کیا

امریکی کانگریس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس کوشش میں امریکہ نے پاکستان کو گذشتہ 13 برس میں 13 ارب ڈالر ادا کیے ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے حال ہی میں پاکستان کو 95 کروڑ ڈالر مالیت کے دفاعی ساز و سامان کی فروخت کی منظوری دی ہے جس میں 15 وائپر ہیلی کاپٹر، ایک ہزار ہیل فائر میزائل اورجدید ریڈیو آلات شامل ہیں۔

پاکستان کے فوجی کمانڈروں اور فوجی جوانوں کا کہنا ہے کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم سینٹر پبی میں جو تربیت انھوں نے حاصل کی ہے وہ انھیں دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کرنے میں بڑی سود مند ثابت ہو رہی ہے۔

گذشتہ سال جون میں ضرب عضب شروع کیا گیا تھا اور فوج نے شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے بڑی حد تک صاف کر دیا ہے۔ اب پاکستانی فوج کی توجہ وزیرستان سے ملحقہ خیر ایجنسی کی تیراہ وادی پر مرکوز ہے جہاں ان کے بقول وزیرستان سے فرار ہونے والے دہشت گردوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

پاکستان فوج کے ریٹائرڈ جنرل جاوید اشرف قاضی نے بتایا کہ طالبان غاروں اور زیر زمین سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں اور انھوں فضائی بمباری سے نشانہ بنانا آسان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے آپ کو ان جگہوں پر جا کر انھیں ختم کرنا ہو گا۔

ہر ماہ کم از کم تین ہزار کے قریب فوجی ان تربیت گاہوں میں آتے ہیں جہاں انھیں دو درجن سے زیادہ مختلف تربیتی مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے، جن میں کچھ پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع دیہات کی طرز پر بنائے گئے مصنوعی دیہات میں دی جاتی ہے۔ یہ مصنوعی دیہات ایک درجن سے زیادہ مٹی اور پتھر کے بنے ایک سے دو منزلہ گھروں پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں زیرِ زمین سرنگیں اور بنی ہوتی ہیں۔

میجر جنرل نعمان مشتاق نے ایک زیر زمین سرنگ سے گزرتے ہوئِے بتایا کہ یہ اندر اور باہر سے بالکل ان کمین گاہوں کی طرز پر بنائی گئی ہیں جن کا سامنا فوجیوں کو فاٹا میں کرنا پڑتا ہے۔ یہ سرنگ ایک گھر سے شروع ہو کر مصنوعی گاؤں کے دوسرے گھر پر ختم ہوتی تھی۔

اس تربیت کے دوران اصل اسلحہ بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن زیادہ تر تربیت جنگی مشقوں میں ’پینٹ بالز‘ یا رنگوں سے بھری گولیاں استعمال کی جاتی ہیں۔

تربیتی مرکز کے ایک حصہ میں پینٹ بالز بندوقوں سے مسلح فوج والی بال کے کورٹ کے برابر ایک احاطے میں فوجیوں کی تربیت دی جا رہی تھی۔ اس تربیتی سیشن کے دوران فوجیوں کو دو ہزار کے قریب پینٹ بال گولیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اس مشق کے دوران اگر کسی فوجی کو چھاتی سے اوپر کوئی پینٹ بال لگتی ہے تو اسے ہلاک تصور کیا جاتا ہے۔ کمر سے نیچے تین اور تین سے زیادہ پینٹ بال جس فوجی کو لگتی ہیں اسے اس مشق سے خارج کر دیا جاتا ہے۔

میجر خالد ولید جو اس تربیت کی نگرانی کر رہے تھے، انھوں نے بتایا کہ پاکستانی فوج کے جوان جنھیں بھارت کی سرحد کے ساتھ کھلے علاقوں اور کھیتوں میں لڑنے کی تربیت دی جاتی ہے، اب دست بدست لڑائی کی صلاحیت بھی حاصل کر رہے ہیں۔

تربیت گاہ کے ایک اور حصہ میں ایک دو منزلہ غار بنایا گیا تھا۔ دوسری منزل پر ایک کھڑکی یا سوراخ سے تربیتی عملہ اور کمانڈر اس غار کے اندر کا منظر دیکھ سکتے ہیں۔ وہ ایک کمپیوٹر سے منسلک کیمرہ سسٹم اور مشینی آدمیوں کے ذریعے پینٹ بالز فوجیوں پر چلاتے ہیں۔

ایک مشق میں تین فوجی غار کے اندر دستی بم پھینک کر غار میں داخل ہوتے ہیں۔ غار میں داخل ہوتے ہی وہ مختلف کونوں میں چھپ کر کمپیوٹر کی مدد سے چلنے والے اپنے حریفوں پر فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔ مشق کے اختتام پر دو فوجیوں کو کوئی پینٹ بال نہیں لگتی جب کہ تیسرا اپنی گردن سے رنگ پونچھتا ہوا باہر آتا ہے۔

ایک اور تربیتی سیشن کے دوران فوجیوں کو چلتی ہوئی جیپوں سے بھاگتے اور حرکت کرتے اہداف کو نشانہ بنانے کی مشق کرائی جاتی ہے۔

شدت پسندوں کے حملوں میں کئی برس سے جانی نقصان برداشت کرنے والی فوج اب غیر روایتی جنگی حربوں کی اہمیت سے آگاہ ہو گئی ہے۔ اب فوجیوں کو اچانک حملے کرنے کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔

ایک مشق کے دوران ایک فوجی ایک گھنے درخت میں چھپ جاتا ہے۔ اسے مختلف پرندوں کی آوازوں میں سنگل دینے کی تربیت بھی دی گئی ہے اور جب وہ کسی حریف کو قریب آتے دیکھتا ہے تو پرندے کی آواز میں اپنے دوسرے ساتھیوں کو ہوشیار کر دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ispr
Image caption راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی خصوصی تربیت حاصل کرنے والے جوانوں سے ملاقات کی

اس آواز کو سنتے ہی اس کے ساتھی درخت کے قریب جھاڑیوں اور سوکھی ہوئی لکڑیوں سے ڈھانپے گئے ایک گڑھے سے نکل کر فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔

علی کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عموماً پاکستانی فوج کے جوانوں کی طرف سے اس طرز کی کارروائی کی توقع نہیں کر رہے ہوتے اس لیے اکثر وہ حیران ہو جاتے ہیں۔

لیفٹینٹ کرنل کاشف امین جو لاہور کے قریب 44 ٹینکوں کی ایک کیولری رجمنٹ کی کمان کرتے ہیں، چار سو فوجی لے کر اس تربیتی مرکز پر پہنچے ہیں کیونکہ شمالی وزیرستان میں ٹینکوں کا زیادہ استعمال ممکن نہیں ہے۔

کرنل امین نے کہا کہ نوجوان فوجیوں کے لیے یہ تربیت ذرا مشکل ہوتی ہے کیونکہ انھیں آرمرڈ جنگ کی تربیت دی گئی تھی اور اب انھیں انفنٹری کارروائیوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔

شمالی وزیرستان جیسے علاقوں میں پیدل فوج کے لیے اپنے بچاؤ میں سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اگلا قدم کہاں رکھنے والے ہیں۔

تربیت گاہ میں مختلف جگہوں پر نقلی بارودی سرنگیں دبا دی جاتی ہیں اور جب فوجی ان پر پاؤں رکھتے ہیں تو انھیں اڑا دیا جاتا ہے۔ ایک اور علاقے میں مختلف قسم کے پھندے لگا دیے جاتے ہیں جن میں ایسی تاریں بھی ہوتی ہیں جن پر پاؤں پڑنے سے درختوں سے تیر چل جاتے ہیں۔ فوجیوں کو ایسے خفیہ گڑھوں سے بھی ہوشیار رہنا پڑتا ہے جن کی سطح پر تیز نوکیلی لکڑیاں لگی ہوتی ہیں اور ان میں گرنے والا ہلاک ہو سکتا ہے۔

علی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فوج ایک ایسے دشمن کا سامنا کر رہی ہے جسے قبائلی علاقوں میں فوجی جوانوں کے مقابلے میں پھر بھی فوقیت حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ شدت پسند وہ گوریلا حربے استعمال کرتے ہیں جن کا تجربہ انھوں نے سویت یونین کے خلاف جہاد کے دوران حاصل کیا تھا۔