’پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدید اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2014 میں مجموعی طور پر دہشت گردی کے واقعات میں 1723 افراد ہلاک اور تین ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوئے

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ اپریل سے اب تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ’دھرنوں کی سیاست‘ کی وجہ سے فرقہ وارانہ طاقتوں کو استحکام ملا ہے ۔

سنہ 2014 کی رپورٹ میں کہاگیا کہ ملک میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ بلا روک ٹوک جاری ہے اور مذہبی اور مسلکی اقلیتوں کے لیے صورتحال ابتر ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس پاکستان میں دہشت گردی کے 1206 واقعات ہوئے جن میں 26 خودکش حملے بھی شامل ہیں۔ ان واقعات میں 1723 افراد ہلاک اور تین ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔

سالانہ رپورٹ میں امن و امان کی صورت حال، خواتین، بچوں، قیدیوں کے حقوق، مذہبی، سیاسی اور اظہار کی آزادی، تعلیم، صحت اور ماحول اور چھت کی فراہمی سے متعلق شہریوں کے حقوق اور پناہ گزینوں کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے قومی رابطہ کار حسین نقی کہتے ہیں: ’ویسے تو بہت سارے تشویش ناک پہلو ہیں لیکن سب سے زیادہ فکرمندی کی بات یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکومت انسانی حقوق سے متعلق بہت سی باتوں کو مانتیں ہی نہیں۔ آپ صورت حال کو بہتر تو اس وقت کریں گے جب آپ کو احساس ہوگا کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 میں پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے 144 واقعات ہوئے۔ سندھ میں ہندوؤں اور عیسائیوں کی 11 عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بلوچستان میں ذکری عقیدے سے تعلق رکھنے والوں پر دو حملوں میں چھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہدف بنا کر کیے جانے والے حملوں میں 11 احمدیوں کو ہلاک کیا گیا۔

کوٹ رادھا کشن میں عیسائی جوڑے کی ہلاکت کا بھی رپورٹ میں نمایاں طور پر تذکرہ کیا گیا ہے۔

تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں: ’ہر برس بجائے بہتری کے انسانی حقوق کی صورت حال بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مذہبی انتہاپسندی ہے، جو کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھ رہی ہے۔ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں مضبوط ہوگئی ہیں۔ حکومت کی رٹ کمزور ہو چکی ہے۔ یہ جماعتیں حکومت کو دھمکیاں بھی دیتی ہیں اور تشدد کا استعمال بھی کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذہبی نفرت کا شکار ہونے والوں کی تعداد 70 ہزار تک جا پہنچی ہے۔ جب تک مذہبی جنونیت کو ختم کر کے لوگوں کا ذہن تبدیل نہیں کریں گے، صورت حال بہتر نہیں ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی پاکستان کو خطرناک ملک شمار کیا گیا

رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس تقریباً چھ سو خواتین اور بچیاں اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ 36 خواتین کو برہنہ کر کے ان کی تذلیل کی گئی۔ 828 کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 923 خواتین اور 82 نابالغ بچیوں کو، جن میں سے 21 کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا، غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔

گذشتہ برس پارلیمنٹ نے محض دس قوانین بنائے جن میں سے چند اہم وہ تھے جن کا تعلق سالمیت کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے سے تھا۔ ان میں تحفظِ پاکستان ایکٹ سرفہرست ہے۔ تاہم اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی۔ ہندو میرج بل اور کرسچئین ڈائیورس بل پارلیمنٹ میں پیش تو ہوئے لیکن ان پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی پاکستان کو خطرناک ملک شمار کیا گیا ہے۔ 14 صحافی اور کارکن ہلاک کیے گئے اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے رپورٹنگ کی حدود اور نوعیت پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا۔ ایک بڑے نیوز نیٹ ورک کو کیبل آپریٹروں کے ذریعے بند رکھا گیا، اور اطلاعات تک رسائی کے قوانین کے تحت دی گئی اکثر درخواستوں کا جواب ہی نہیں دیا گیا۔

Image caption فاٹا میں خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے باعث کم از کم 25 لاکھ افراد بے گھر ہوئے

انسانی حقوق کمیشن کے رابطہ کار حسین نقی کہتے ہیں: ’اس وقت ملک میں 13 ایسے قوانین موجود ہیں جو آزاردی اظہار میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، اور اب ایسے قوانین میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ صحافیوں کو ہر طرف سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ جرات دکھاتے ہیں لیکن انھیں ہر طرح سے روکا جاتا ہے۔ اس میں حکومت خفیہ ادارے، طالبان اور کئی گروہ اور تنظیمیں شامل ہیں۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس صرف کراچی میں 134 سیاسی کارکنوں کا قتل ہوا، جبکہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران یہاں 160 پولیس اور رینجر اہلکار ہلاک ہوئے۔

فاٹا میں خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے باعث کم از کم 25 لاکھ افراد بے گھر ہوئے جبکہ سیالکوٹ کی سرحد پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے درجنوں دیہات کے 40 ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

کیا رواں برس انسانی حقوق کی صورت حال میں کوئی بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے؟

ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ ’فوج، رینجرز اور خفیہ اداروں کا اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا ہے۔ اس سے بھی انسانی حقوق کی صورت حال پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ اب تو ہمیں صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ اتنے دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ وہ کون تھے؟ کیا انھیں عدالت میں پیش کیا گیا؟ انھوں نے کیا کیا تھا؟ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ ان سب باتوں سے پاکستان کا امیج اور انسانی حقوق دونوں ہی متاثر ہوں گے۔‘

اسی بارے میں