کراچی میں سنّی اتحاد کے رہنما کا دورانِ قید انتقال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 16 اپریل کو ملزم طارق محبوب کو 90 روز کے لیے حراست میں دے دیا تھا

کراچی میں دہشت گروں کی مبینہ معاونت کے الزام میں زیر حراست مذہبی جماعت انجمن نوجوان اسلام کے سرابراہ اور سنّی اتحاد کونسل کے رہنما طارق محبوب سینٹرل جیل میں انتقال کر گئے ہیں۔

جیل حکام کا کہنا ہے کہ ان کی ہلاکت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی ہے۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طارق محبوب کو ساتھیوں سمیت مجرمانہ سرگرمیوں کے شبہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 16 اپریل کو ملزم کو 90 روز کے لیے حراست میں دیا تھا جس کے بعد سے وہ سینٹرل جیل میں قید تھے۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے طارق محبوب نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث نہیں رہے اور کراچی کی بربادی کے ذمہ دار ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین ہیں تاہم انسداد دہشت گردی کے جج آنند رام کا کہنا تھا کہ ریمانڈ رینجرز اور پولیس کا حق ہے۔

طارق محبوب انجمن نوجوان اسلام کے سربراہ اور سنی اتحاد کونسل کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری تھے۔

طارق محبوب کی رہائش فیڈرل بی ایریا میں واقعہ ہے، جہاں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 246 میں ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں عارف علوی اور دیگر نےگذشتہ دنوں ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان سے ملاقات کی تھی جبکہ ایم کیو ایم کے امیدوار کنور نوید جمیل نے بھی طارق محبوب سے ملاقات کر کے انھیں الطاف حسین کا پیغام پہنچایا تھا۔

خیال رہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے خلاف گذشتہ دو سالوں سے آپریشن جاری ہے جس میں چند ماہ میں تیزی آئی ہے۔

اس آپریشن کے دوران کئی ٹارگٹ کلر گرفتار ہوئے جبکہ کچھ شدت پسند مقابلے میں مارے گئے، طارق محبوب کی ہلاکت اس پورے عرصے میں دورانِ حراست پہلی بڑی ہلاکت ہے۔

اسی بارے میں