’شفقت کی عمر کے تنازعے نے بظاہر پاکستان کو تقسیم کر دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پہلا ثبوت گرفتاری کے وقت پُر کیے جانے والا ’حلیہ فارم‘ ہے

حکومت نے سزائے موت کے منتظر قیدی شفقت حسین کے عمر کے تنازعہ کے حل کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو جو ذمہ داری سونپی تھی، اس ٹیم کی تحقیقات کے مطابق ملزم عدالت سے سزا ملنے کے وقت کم عمر نہیں تھا۔

لیکن دوسری جانب شفقت حسین کے دفاع کی کوشش میں مصروف ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ حقوق انسانی کے کسی واقعے کی تحقیقات کرنا ایف آئی اے کا کام ہی نہیں ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے کیل سیکٹر سے تعلق رکھنے والے اس شخص کی عمر کے معاملے نے بظاہر پاکستان کو تقسیم کر دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور اس سزا کے حامی شفقت حسین کو ہر قیمت پر پھانسی دینے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ ان کے دفاع میں پیش پیش جسٹس پراجیکٹ سوسائٹی جیسے لوگ عمر کے حتمی تعین تک یہ سزا نہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکومت نے انیس مارچ کو سزائے موت پر عمل درآمد رکوانے کے بعد ایف آئی اے کو شفقت حسین کی عمر کے تعین کی ذمہ داری سونپ دی تھی۔

بی بی سی کو بھی ایف آئی اے کی رپورٹ ملی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ شفقت حسین قتل کے وقت کم عمر نہیں تھے۔ یہ فیصلہ انہوں نے کراچی، جہاں وہ قید ہیں اور مقدمہ چلا، اور ان کے گاؤں میں ان کے سکول اور دیگر لوگوں سے تحقیقتات کے بعد کیا۔ اس تحقیقات کے نتیجے میں انہوں نے یہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا؟ اس کی انہوں نے چار بڑی وجوہات بتائی ہیں۔

Image caption شفقت کا 2014 میں بنایا گیا پیدائش سرٹیفیکٹ بھی مسترد کر دیا گیا ہے

پہلا ثبوت گرفتاری کے وقت پُر کیے جانے والا ’حلیہ فارم‘ ہے جس میں قد کاٹھ اور جلد اور آنکھوں کی رنگت جیسے کوائف درج کیے جاتے ہیں اور اس فارم پر ملزم کے دستخط لیے جاتے ہیں۔ یہاں پولیس کے مطابق وہ 23 سال کا تھا۔

ٹیم نے یہ تاثر بھی رد کیا کہ شفقت کو وکیل عدالت نے فراہم کیا تھا جس نے مناسب دفاع نہیں کیا۔ لیکن تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ شفقت کے بھائی نے معاوضے پر منصور الحق سولنگی کو وکیل رکھا تھا جنہوں نے تسلیم کیا کہ نہ تو ملزم نے اور نہ کسی اور نے انہیں اس کی عمر کا معماملہ عدالت میں اٹھانے کے لیے کہا تھا۔

شفقت کا 2014 میں بنایا گیا پیدائش سرٹیفیکٹ بھی مسترد کر دیا گیا ہے، جبکہ سکول سے حاصل ریکارڈ کے مطابق اور ایف آئی اے کی ٹیم نے شفقت کے گاؤں جا کر بھی جو معلومات اکھٹی کیں اس کے مطابق سنہ 1996 میں وہ چوتھی جماعت میں تھا۔ لیکن ایف آئی اے نے اس ثبوت کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ شفتقت کا چھوٹا بھائی سنہ 2000 میں دوسری جماعت میں کیسے ہو سکتا تھا۔

لیکن جسٹس پراجیکٹ کی ڈائریکٹر سارا بلال کہتی ہیں کہ ایف آئی اے کا تو یہ کام ہی نہیں کہ وہ حقوق انسانی کے مسائل کی تحقیقات کرے اس مقصد کے لیے اور ادارے ہیں۔ ’اس طرح کے معاملات دیکھنا ایف آئی اے کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ حکومت کے حقوق انسانی کے کمیشن اور دیگر ادارے یہ کام بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Aurangzeb Jarral
Image caption ایف آئی اے کا تو یہ کام ہی نہیں کہ وہ حقوق انسانی کے مسائل کی تحقیقات کرے: سارا بلال

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد اس مقدمے کے فیصلہ تک روک دیا ہے اور حکومت سے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ شفقت کو سزا ملے یا نہ ملے اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہو گا لیکن یہ مقدمہ پاکستان میں ماضی میں پیدائش پر بچے کا حکومت کے پاس اندراج نہ کرانے کے سنگین مسئلے کی جانب توجہ دلاتی ہے۔

سارا بلال کہتی ہیں کہ یہ اندراج تو ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور ریاست کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔’اس کی بنیاد پر شہریت اور سہولتوں کا تعین ہوتا ہے۔ ریاست جب اتنی بنیادی اور کلیدی ذمہ داری میں ناکام ہو رہی ہو تو آپ باقی حقوق کیسے یقینی بناسکتے ہیں۔‘

یعنی بقول سارا بلال غلطی ریاست کی اور بھگتنا پڑے عوام کو۔ لیکن ایف آئی اے حکام اس سے متفق دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ اب گیند دوبارہ حکومت کی کورٹ میں ہے۔ دیکھنا ہے کہ حقوق انسانی کے کارکن آئندہ کا کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں؟

اسی بارے میں