بلوچستان: محتلف واقعات میں 2 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 8 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے تین مختلف علاقوں میں منگل کو مختلف واقعات میں دو سیکورٹی اہلکاروں سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے۔

سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ساحلی ضلع گوادر میں ایک سرچ آپریشن کے دوران جھڑپ میں میں پیش آیا۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب پسنی کے علاقے میں مسلح افراد کی جانب سے سول ایوی ایشن کے ایک راڈار پر حملہ کیا گیا جس کے بعد حملہ آوروں کا تعاقب کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق زریں بھگ کے علاقے میں حملہ آوروں اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس جھڑپ کے نتیجے میں دو سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے ایک حملہ آور بھی مارا گیا اور دو کو گرفتار کر لیا گیا۔

راڈار پر حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے قبول کی ہے۔

یہ راڈار ضلع گوادر کے فضائی حدود میں ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کی نگرانی اور تعین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں راڈار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ایک اور واقعہ میں ضلع آواران کے علاقے مشکے میں چار افراد ہلاک ہوئے جس میں سیکورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسند تھے جو سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے بعد جوابی کاروائی میں مارے گئے۔

ان چار افراد کی ہلاکت کے بارے بلوچ نیشنل موومنٹ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ عسکریت پسند نہیں بلکہ عام شہری تھے۔

بی این ایم کے مرکزی صدر خلیل بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کو چند روز بیشتر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

ضلع زیارت سنجاوی کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی سرچ آپریشن میں ایک شدت پسند ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

اسی بارے میں