برصغیر میں چینی سرمایہ کاری: چند ممکنہ اسباب

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اپنے دورے کے دوران چینی صدر نے پاکستانی پارلیمنٹ سے بھی خطاب کیا

پاکستان و چین کے درمیان دو طرفہ تعاون جو 1960ء میں شروع ہوا تھا، اس میں کئی اعتبار سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

چین اور پاکستان تعلقات پر ایک نئی کتاب کے مصنف اینڈریو سمول کے مطابق اس کے ممکنہ اسباب میں چین کی متاثر کن معاشی ترقی، ایک طرف بھارت و امریکہ اور دوسری طرف پاکستان، چین کے درمیان بڑھتے تعاون نیز بھارت و چین کے درمیان اونچ نیچ سے گزرنے والے تعلقات کی بدلتی نوعیت شامل ہیں۔

جس طرح ماضی میں چین نے کچھ امور پر امریکہ سے تعاون اور دیگر امور میں مسابقت کی روش رکھی ہے، اب بھارت کے ساتھ وہ کچھ اسی طرح معاشی تعاون اور عسکری مسابقت کا رویہ رکھنا بہتر سمجھتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ چین نے پاکستان کو بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور باہمی تجارت میں اضافے کا مشورہ دیا ہے۔

چین، بھارت اور امریکہ تینوں طاقتیں متشدد اور انتہا پسندی کے رجحانات کو بڑھنے سے روکنا چاہتی ہیں اور علاقے کو ایسے عناصر سے محفوظ دیکھنا چاہتی ہیں۔

امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کے مطابق امریکہ پر سنہ 2001 سے 2015 کے درمیان جنوبی غربی ایشیا میں فوجی سلامتی کی مہمات پر 686 ملین یا 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز کا خرچہ آیا جس کے باوجود ایک عام افغان شہری کو اب تک مطلوبہ حد تک نہ تحفظ ملا اور نہ ہی معاشی استحکام۔

افغانستان سے امریکی فوجی مہمات کے خاتمے اور عسکری انخلاء کے بعد چین خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے منصوبے کے ذریعے تبدیلی کا خواہاں ہے یہی وجہ ہے کہ آنے والے برسوں میں چینی سرمایہ کاری ماضی کے مقابلے میں کئی گنا بڑھتی نظر آئے گی۔

پڑوسی ممالک میں یہ سرمایہ کاری چین کی داخلی صورتحال کو پرامن رکھنے کی طرف ایک قدم ہے۔

20 تا 21 اپریل چین کے صدر شی چنگ ینگ کا دورہ پاکستان، ایک ایسے وقت پر ہوا جس کے صرف چند ہفتوں بعد بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی چین کا دورہ کریں گے۔

تیز رفتار ٹرین اور ایٹمی تعاون اور بجلی کی پیداوار کے منصوبوں میں چین اپنی مہارت کی پیش کش کرے گا جبکہ وہ بھارت سے خلائی اور فضائی تعاون کے منصوبوں میں مدد چاہے گا۔

ستمبر 2014 میں اپنے دورہ بھارت میں چینی صدر شی چنگ ینگ نے اگلے پانچ برسوں میں 20 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کا تھا۔

کچھ سالوں سے باور کیا جا رہا ہے کہ چند بڑے منصوبوں کا آغاز پاک چین دوستی کو ایک نیا توازن اور مزید گہرائی بخش سکتا ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ پاکستان کو درپیش داخلی مشکلات کے باوجود چین وہاں پر سرمایہ کاری اس امید کے ساتھ کرنے پر تیار ہے کہ ایسا کرنے سے پاکستانی معیشت اور معاشرت استحکام کی طرف بڑھے گی جس کے نتیجے میں پاکستان چین کے لئے ایک مؤثر اثاثہ ثابت ہوگا جو چینی مفادات کے جنوبی ایشیا و غربی ایشیا میں پھیلاؤ اور فروغ کے لیے پل کا کام دے گا نیز جنوبی ایشیا میں توازن میں بھی مدد دے گا۔

جیسے جیسے چین ایک معاشی و عالمی قوت کا روپ اختیار کرے گا اسے معاشی اور دفاعی مفادات کے حلیفوں اور فوجی اڈوں کی مزید ضرورت پڑے گی۔

اپنے سیاسی اور عسکری اہداف کے بھرپور حصول کی خاطر چین کو ایک بڑی معاشی قیمت ادا کرنے میں کوئی تردد نہیں ہے۔

چینی قیادت کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ چین کے مغربی سرحد کے علاقوں کو پڑوسی ممالک سے بہتر راہداریاں فراہم کر کے معاشی ترقی کو پھیلایا اور بڑھایا جائے۔

چین کی ابھرتی ہوئی معیشت اور بڑھتی فوجی طاقت سے پاکستان کو بہت بڑا سہارا مل سکتا ہے مگر اپنی داخلی صورتحال یا سیاسی کشمکش کو قابو رکھنے میں ناکامی سے پاکستان کے ہاتھوں سے یہ موقع کھو بھی سکتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان توانائی کے بحران سے نکلنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے، چینی سرمایہ کاری کی پیش کش اظہار خیر سگالی سے بڑھ کر ایک حکمت عملی کا حصہ ہے جس کی رو سے ایک کمزور اور غیر مستحکم پڑوسی چین کے مفادات کے لیے اچھا نہیں رہے گا۔

جیسے جیسے افغانستان میں چین کی سرمایہ کاری اور صنعت سازی بڑھے گی ویسے ویسے وہ علاقائی استحکام میں پاکستان کے ایک مثبت کردار کا طالب ہوگا۔

شنگھائی تنظیم برائے علاقائی تعاون 2014 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر چینی قیادت نے افغانستان کے داخلی امن اور خطے میں سلامتی کے لیے ایک فعال کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

ایک چینی ترجمان کے مطابق امریکہ کے انخلا کے بعد افغانستان میں تخلیقی تعاون کی سفارتکاری کے لیے چین کو نئے مواقع حاصل ہوں گے۔

افغانستان اپنی معیشت و سیاست کو جنوبی وسطی ایشیا کی معیشتوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے۔ مستقبل قریب میں شنگھائی تنظیم افغانستان کو علاقائی تعاون میں ایک اہم کڑی بنانے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔

اسی بارے میں