کراچی میں شہریوں کو شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رینجرز کی یہ ہدایت سیاسی جماعتوں کی ان شکایت کے بعد سامنے آئی ہے

کراچی میں ضمنی انتخابات میں رینجرز کا کردار غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔

رینجرز نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قومی شناختی کارڈ ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں، شناختی کارڈ کی نقل قابل قبول نہیں ہوگی۔

رینجرز کی شہریوں کو یہ ہدایت سیاسی جماعتوں کی ان شکایت کے بعد سامنے آئی ہے ، جس میں سیاسی جماعتوں نے الزام عائد کیا تھا کہ حلقہ 246 میں لوگوں سے زبردستی شناختی کارڈ لے لیے گئے ہیں۔

رینجرز ترجمان کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کی عدم دستیابی پر شہریوں کو اس وقت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے جب تک ان کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوجاتی ہے۔

این اے 246: شہر کی سیاسی بالادستی کی جنگ

رینجرز ترجمان نے شہریوں کو یہ بھی درخواست کی ہے کہ شناختی کارڈ چھیننے اور ساتھ لے جانے والے عناصر کے بارے میں فوری طور پر رینجرز کو اطلاع کی جائے۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے جو کام الیکشن کمیشن کو کرنا چاہیے تھا وہ رینجرز کر رہی ہے، لیکن اس سے بھی معاملہ حل نہیں ہوگا۔

’جب تک بائیو میٹرک نظام نہیں رائج ہوگا، شناختی کارڈ کی جو بوریوں کی بوریاں سیکٹر دفاتر سے برآمد ہوتی رہی ہیں وہ جعلی شناختی کارڈ ہیں لیکن ان کو آپ چیک نہیں کر سکتےجب تک بائیو میٹرک موجود نہ ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلقہ 246 میں 23 اپریل کو ضمنی انتخابات ہوں گے، جس کے لیے منگل کو انتخابی مہم ختم ہوگئی

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ جو اصل لوگ ہیں وہ تو اصلی شناختی کارڈ کے ساتھ سامنے آئیں گے جبکہ جو فراڈ ہیں انھیں پکڑنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ان پر شناختی چھیننے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے تو اس کی ایف آئی آر درج کیوں نہیں کرائی جاتی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی گھوسٹ پولنگ سٹیشن ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ عزیز آباد اور لیاقت آباد میں کوئی شخص یہ جرات کر سکتا ہے کہ ایف آئی آر درج کرا سکے، ایسی باتیں تو اس بات کی دلیل ہوتی ہیں کہ آؤ میدان میں۔ ان کے مطابق حکومت اور الیکشن کمیشن کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنا ہوگی۔

ایم کیو ایم کے رہنما فارق ستار نے ان الزامات کو مسترد کیا، ان کا کہنا تھا کہ بدترین شکست بچنے کے لیے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی جانب سے الزام عائد کیے جا رہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم ایک جمہوریت پسند جماعت ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ متوقع ہے

واضح رہے کہ حلقہ 246 میں 23 اپریل کو ضمنی انتخابات ہوں گے، جس کے لیے منگل کو انتخابی مہم ختم ہوگئی ہے، اس حلقے میں ایم کیو ایم کے کنور نوید جمیل، جماعت اسلامی کے راشد نسیم اور تحریک انصاف کے عمران اسماعیل کے درمیان مقابلہ ہے۔

انتخابات کے دن رینجرز کا ایک اہلکار پولنگ سٹیشن کے اندر اور ایک باہر تعینات ہوگا جبکہ ریٹرننگ افسر کے ساتھ رینجرز افسر کو بھی میجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زائد ہے، جن میں دو لاکھ کے قریب مرد مرد ووٹر ہیں، یہ ووٹر 213 پولنگ سٹیشنوں میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے جو تمام ہی حساس قرار دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں