’سپریم کورٹ سزائے موت کے فیصلوں پر حکم امتناعی واپس لے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC urdu
Image caption درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ فوجی عدالتوں کی طرف سے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت دینے جانے کے فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی واپس لے

وفاقی حکومت نے 21ویں آئینی ترمیم کےتحت فوجی عدالتوں کےقیام سے متعلق دائر درخواستوں پر ایک متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ فوجی عدالتوں کی طرف سے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت دینے جانے کے فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی واپس لے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی گذشتہ سماعت کے دوران فوجی عدالتوں کی طرف سے سات مجرموں کو سزا دینے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ ان میں سے چھ افراد کو سزائے موت جبکہ ایک کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

منگل کے روز وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل کی وساطت سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں سزا پانے والے افراد کو فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق ہے۔

اس کے علاوہ اپیل مسترد ہونے کی صورت میں وہ صدر کو رحم کی اپیل بھی کر سکتے ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام مراحل چھ ماہ کی مدت میں مکمل ہوں گے جس کے بعد ان سزاؤں پر عمل درآمد ہو گا۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملک سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ جو افراد دہشت گردی میں ملوث ہیں اُنھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انھی وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے 21ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کو دہشت گردی کے مقدمات سننے کا مینڈیٹ دیا گیا تاکہ ان مقدمات کے جلد از جلد فیصلے کیے جا سکے۔

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی اس بات کا فیصلہ بھی ہونا ہے کہ آیا سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی کو کالعدم قرار دینے کا اختیار ہے بھی یا نہیں۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے 16 اپریل کو سپریم کورٹ بار ایسوسی سیشن کی طرف سے دائر کی گئی ایک متفرق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے فوجی عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں پر عمل درآمد معطل کر دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اُس وقت تک ان سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ ان درخواستوں کی دوبارہ سماعت 22 اپریل کو ہو گی۔

اسی بارے میں