خیبر پختونخوا میں 50 ہزار اساتذہ کی تربیت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اساتذہ کی تربیت کا ذریعہ تعلیم انگریزی ہے اور اساتذہ کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ بچوں کو کیسےپڑھایا جائے؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں یکساں نظامِ تعلیم کے لیے حکومت بڑے نجی تعلیمی اداروں کی مدد سے سرکاری سکولوں کے لگ بھگ 50 ہزار اساتذہ کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں بیکن ہاؤس سکول سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ ان دنوں صوبے کے دور دراز علاقوں میں جا کر ہر سکول میں اساتذہ کو انگریزی اور دیگر مضامین پڑھانے کی تربیت دے رہے ہیں۔

بیکن ہاؤس سکول کے20 سے 25 مرد اور خواتین اساتذہ چند روز پہلے تک خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع، ڈیرہ اسماعیل خان کے دور دراز دیہاتوں میں اساتذہ کو تربیت فراہم کر رہے تھے۔

تربیت فراہم کرنے والے اساتذہ میں لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور کی استانیاں اور استاد شامل تھے۔

اس منصوبے کے تحت نجی اداروں کے یہ اساتذہ دور دراز دیہات جیسے چودھوان، درابن، کلاچی میں سرکاری پرائمری سکولوں کے دورے کرتے رہے۔ ان سکولوں میں اساتذہ کو پانچ روز تک تربیت فراہم کی جاتی رہی جس میں انگریزی ، جنرل نالج اور حساب کے مضامین شامل تھے۔

سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو تربیت فراہم کرنے والے ماسٹر ٹرینر شہر یارخان نے بتایا کہ وہ چھ سے سات اضلاع میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔اس میں ذریعہ تعلیم انگریزی ہے اور اساتذہ کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ بچوں کو کیسے پڑھایا جائے؟

ان کا کہنا تھا کہ اکثر اساتذہ تعلیم یافتہ ہیں اور وہ سیکھنا چاہتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہے اور ان اساتذہ کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہے تو یہ منصوبہ بہت موثر ہو سکتا ہے۔

ان سے جب پوچھا کہ ان ساتذہ کو کیا سکھایا جاتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں رائج جدید طریقے سکھائے جا رہے ہیں ان میں زبان اور تحریر کے لیے علیحدہ علیحدہ طریقے شامل ہیں۔

اس بارے میں صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تحریکِ انصاف کے تعلیم کے بارے میں منصوبے کا دوسرا مرحلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں کلاس اول کے 23 ہزار اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی تھی اور اب 50 ہزار اساتذہ کو ان کے سکولوں میں جا کر سکھایا جا رہا ہے ۔

صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق حکومت نے بجٹ میں 80 کروڑ روپے مختص کیے تھے اور اس بارے میں اخبارات میں اشتہارات دیے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت چار قسم کی تربیت کے سلسلے جاری ہیں۔ ایک سکولوں میں انگریزی پڑھانے کی تربیت، دوسری ٹریننگ نویں اور دسویں جماعت کے اساتذہ کے لیے حساب اور انگریزی پڑھانے سے متعلق ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ عرصے میں اساتذہ کی تعلیمی مہارت کے علاوہ انھیں حفاظت کے لیے ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت بھی دی گئی۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ سکولوں کے پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز کی تربیت علیحدہ ہے اور سکولوں کے لیے اساتذہ اور والدین پر مبنی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جنھیں ماہرین تربیت فراہم کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کمیٹیوں کے ذریعے فنڈ سکولوں کے لیے فراہم کیے جائیں گے تاکہ اس میں کسی قسم کی کوئی دھاندلی نہ ہو سکے۔

خیبر پختونخوا میں تعلیم کے شعبے میں حکومت کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں نصاب تعلیم کے انتخاب سے لے کر بچوں کو سکول میں داخل کرانے تک تمام شعبہ جات میں کام جاری ہے۔

حکومت نے بچوں کو سکول میں داخل کرنے کے لیے بھی ایک مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کا نام ’گھر آیا استاد‘ رکھا گیا ہے اور اس میں اساتذہ گھر گھر جا کر بچوں کو سکول داخل کرنے کے لیے ترغیب دیتے ہیں۔

یہاں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ماضی کی نسبت اب موجودہ حکومت نے بہتری کے لے اقدامات ضرور کیے ہیں اب اس کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں اور کیا یہ کوششیں یونہی جاری بھی رہتی ہیں یا نہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

اسی بارے میں