’گورنر سندھ کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عشرت العباد طویل ترین عرصے سے گورنر کے عہدے پر فائز ہیں

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں وفاق اور اسٹیبشلمنٹ کا نمائندہ قرار دیا ہے۔

پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ایم کیو ایم کا اب کوئی بھی تنظیمی اور تحریکی واسطہ نہیں رہا۔

” کراچی میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابدی عائد کر دی گئی، کراچی کے شہریوں کو شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کا حکم دیا گیا، کارکن ماورائے عدالت قتل ہوئے، ایم کیو ایم کے قائد سمیت اس کی بہن کے گھر اور ساتھیوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے لیکن ان تمام باتوں پر گورنر سندھ خاموش رہے۔‘

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تمام ذمہ داران، ساتھیوں اور کارکنوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ گورنر سندھ وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے ہیں، وہ کسی مسئلے کے لیے گورنر ہاؤس کی جانب نہ دیکھیں، اگر برطانیہ میں مقدمے ختم ہو جائیں تو وہ کل ہی پاکستان واپس آ جائیں۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد گذشتہ چند ماہ سے مسلسل دباؤ میں ہیں، سندھ میں وفاق کے ساتھ ایم کیو ایم کے نمائندے کے طور پر وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطہ کار اور سہولت کار کا کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔ 2008 اور 2013 کے انتخابات میں بھی ان کا کردار غیر معمولی رہا، ان انتخابات میں کراچی میں ایم کیو ایم کا سیاسی حصہ پہلے سے بڑھ گیا تھا۔

Image caption صولت مرزا نے بھی عشرت العباد پر الزامات عائد کیے تھے

پچھلے دنوں مچھ جیل میں قید پھانسی کے منتظر ایم کیو ایم کے سابق کارکن صولت مرزا کے بیان کے بعد تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتیں ان کے استعفے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ صولت مرزا نے اپنے متنازع بیان میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد پر الزام عائد کیا تھا کہ ایم کیو ایم گورنر سندھ عشرت العباد کے ذریعے اپنے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو تحفظ دیتی ہے۔

نائن زیرو پر چھاپے کے بعد جب حلقہ این اے 246 میں ضمنی انتخابات کے دوران جناح گراؤنڈ میں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں تصادم اور کشیدگی پیدا ہوئی تو گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے فریقین کا گورنر ہاؤس میں تصفیہ کرایا تھا اور میڈیا کو آگاہ کیا کہ یہ قدم انھوں نے الطاف حسین کی ایما پر اٹھایا تھا۔

اس سے پہلے سنی تحریک اور عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں میں کشیدگی کم کرنے میں بھی گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اپنے آئینی کردار سے زیادہ سیاسی کردار ادا کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے بعد جب وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جب کراچی آمد ہوئی تو وہ روایتی طور پر گورنر ہاؤس نہیں گئے اور نہ ہی وہاں کوئی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس کے علاوہ فیصل ایئر بیس پر اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ اور رینجرز سمیت دیگر فورسز کے حکام شریک ہوئے لیکن گورنر سندھ کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت ایم کیو ایم کو متعدد محاذوں پر چیلنجوں کا سامنا ہے

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا یہ موقف سامنے آیا تھا کہ وہ مدعو نہیں تھے اور نہ ہی وہ اجلاس امن و امان کے بارے میں تھا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے گورنر عشرت العباد نے ایم کیو ایم کے مستقبل کے بارے میں کہا تھا کہ کراچی کے حالات بہتر ہوں گے تو ایم کیو ایم کی بھی حالات بہتر ہوں گے، ایم کیو ایم اہم سیاسی حقیقت ہے اس کو انتخابات میں پذیرائی ملتی رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین اس سے پہلے بھی ٹی وی چینلوں پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال مختلف ہے۔ اس وقت ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کی تفتیش آخری مرحلے میں ہے، جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم کو آپریشن، ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر سنگین نوعیت کا الزامات کا سامنا ہے اور کہیں سے بھی کوئی سافٹ کارنر دستیاب نہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد طویل ترین عرصے سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ 2002 سے لے کر آج تک وہ کئی حکومتوں کے ساتھ رہ چکے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد پر جب الزامات کا ملبا گر رہا ہے، کیا الطاف حسین کا لاتعلقی کا اعلان ان کے سبکدوش ہونے میں مددگار ثابت ہو گا؟ یا اس بنیاد پر ان کی پوزیشن مضبوط کرے گا کہ اب ان کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں رہی۔

اسی بارے میں