پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سعودی عرب جا رہی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کا اب تک کا موقف ہے کہ یمن کے تنازعے کو سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے

وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ملکی فوجی اور سول قیادت پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد ایک روزہ دورے پر جمعرات کے روز سعودی عرب روانہ ہو گا۔

وزیراعظم کے ترجمان نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ اجلاس میں سول اور فوجی قیادت نے یمن کی صورتحال پر غور کیا۔

سعودی عرب تیل مفت نہیں دیتا: اسحاق ڈار

شریف خاندان کی شاہی خاندان سے ملاقاتیں

کیا سعودی عرب ناراض نہیں ہو گا؟

ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے اس اجلاس کو بتایا ہے کہ وہ اور فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف سعودی عوام اور حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی اور یمن کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کے لیے سعودی عرب جائیں گے۔

اس وفد میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیراعظم کے خارجہ امور کے لیے مشیر طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری شامل ہوں گے۔

وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نے سعودی عرب کی جانب سے یمن میں فضائی حملے روکنے اور سیاسی مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان اور سعودی عرب نے حال ہی میں پہلے سے طے شدہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی ہیں

یمن کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں وزیر دفاع کے علاوہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف، مشیر خارجہ طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری موجود تھے۔

سعودی عرب نے پاکستان سے یمن جنگ میں برّی، بحری اور فضائی مدد مانگ رکھی ہے جبکہ سعودی عرب کی یمن کی جنگ میں مدد کے بارے میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب نے یمن میں فضائی حملے بند کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی دوبارہ فضائی حملے کیے ہیں

پارلیمان کے فیصلے سے قبل پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے دفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور پارلیمان کے فیصلے کے بعد وزیراعطم نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی قیادت میں ایک وفد نے سعودی شاہی خاندان سے ملاقاتیں کی تھیں۔

اسی دوران سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز نے پاکستان کا دورہ کیا اور اس دوران ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے تاہم سعودی عرب کو پاکستان سے اچھی توقعات وابستہ ہیں۔

سعودی وزیر کے دورے سے پہلے سعودی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستانی پارلیمان کے فیصلے سے یمن میں جاری مہم پر اثر نہیں پڑے گا۔

یمن کے معاملے میں خلیج تعاون کونسل کے ایک اہم رکن متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کوایک اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم رائے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

اس بیان کو پاکستانی وزیر داخلہ نے پاکستانی قوم کی عزتِ نفس کی ہتک کے مترادف قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں