شمالی وزیرستان: بمباری میں 22 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کا 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے

پاکستانی فوجی نے وفاق کے زیر انتظام پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فضائی حملوں میں 22 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فضائی حملے دتہ خیل کے علاقے میں کیے گئے۔

اس سے قبل ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں آٹھ شدت پسند ہلاک جبکہ سات اہلکاروں سمیت 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ رات گئے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں پیش آیا۔

ضربِ عضب کے بعد شدت پسند کہاں گئے؟

فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں فضائی حملوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس کارروائی میں 22 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں ہیں۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نامعلوم افراد نے تحصیل مکین کے علاقے پش زیارت میں سکیورٹی فورسز کی کھجوری چیک پوسٹ پر 40 سے 45 راکٹ داغے اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی۔ اس حملے میں سات اہلکار زخمی ہو گئے۔ذرائع کے مطابق اس موقعے پر سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس میں آٹھ شدت پسند ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ تین شدت پسندوں کی لاشیں سکیورٹی فورسز نے تحویل میں لی ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز پہلے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں شدت پسندوں کا ایک اہم کمانڈر ہلاک ہوا تھا اور نو شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حال ہی میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی شروع ہو گئی ہے

ان شدت پسندوں کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے اور ہلاک ہونے والے کمانڈر کا نام فاروق زدران بتایا گیا تھا۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب گذشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق 1200 سے زیادہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جو ان دنوں مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔

فوج کے ترجمان کے مطابق آپریشن ضرب عضب میں شمالی وزیرستان کا 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کیا جا چکا ہے۔ چند ہفتے پہلے شمالی وزیرستان کے ایک دو دیہاتوں میں متاثرین کو واپس بھیجا گیا لیکن اس کے بعد سے اب تک خاموشی ہے۔ اسی طرح جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اسی بارے میں