انتخابی دھاندلی: ’تحریک انصاف تحریری ثبوت فراہم کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے کمیشن کے سامنے 13 گواہوں کے نام پیش کیے

2013 کے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے کہا ہے کہ وہ دو روز میں اس بات کے تحریری ثبوت جمع کروائے کہ ان انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی تھی۔

کمیشن نے تحریک انصاف سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا دھاندلی کروانے میں کسی فردِ واحد کا ہاتھ ہے یا اس میں دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی جوڈیشل کمیشن نے مبینہ دھاندلی کے بارے میں تحقیقات شروع کیں تو پاکستان تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت کیا ہو گا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے انتخابات کے روز رات 11 بجے کے قریب ہی اپنی فتح کا اعلان کر دیا تھا جبکہ اس وقت انتخابی نتائج ابھی آ رہے تھے۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ محض نواز شریف کے بیان کو ان انتخِابات میں دھاندلی کے ثبوت کے طور پر نہیں لیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے ٹھوس ثبوت دینا ہوں گے۔

سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے کمیشن کے سامنے 13 گواہوں کے نام بھی پیش کیے جن میں صوبہ پنجاب کے سابق نگراں وزیراعلیٰ نجم سیٹھی، نبیل گبول، صحافی حامد میر کے علاوہ پرنٹنگ کارپوریشن کے سربراہ اور صوبہ پنجاب اور سندھ کے صوبائی چیف الیکشن کمشنر شامل ہیں تاہم اس پر جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ کمیشن کرے گا کہ کن افراد کو بُلایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

واضح رہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کو بھی طلب کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا تاہم جمعرات کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل کی طرف سے اس بات پر زور نہیں دیا۔

اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان پر انتخابات میں دھاندلی کروانے کے الزامات لگاتی رہی ہے لیکن گواہوں کی جو فہرست فراہم کی گئی ہے اس میں جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری کا نام شامل نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت پولنگ بیگ میں موجود ہیں اس لیے کمیشن انتخابی ریکارڈ اپنی تحویل میں لے۔ اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کمیشن کو اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ یہ ریکارڈ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

کمیشن نے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات 27 اپریل تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں