’کیا کروں گھر نائن زیرو کے ساتھ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ضمنی انتخاب میں متحدہ قومی موومنٹ کے کنور نوید جمیل، جماعت اسلامی کے راشد نسیم اور تحریک انصاف کے عمران اسماعیل اور پاسبان عثمان معظم سمیت نصف درجن امیدواروں میں مقابلہ ہے

کراچی کے حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان ٹرینڈز کی جنگ جاری ہے۔

اس وقت پاکستان میں ٹوئٹر پر BallayPayThappa، #PTIChorMachayeShor، #VoteDoTarazuKo# اور PatangSabPerBharee# کے علاوہ ’رینجرز‘ بھی ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

جمعرات کی صبح سے ہی ٹوئٹر پر پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی کے حامیوں کے جانب سے اپنی اپنی جماعتوں کے حق میں ٹویٹس کی جارہی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے حامی عمر ورک لکھتے ہیں کہ ’ہاں یہ سچ ہے کہ 37000 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہو گی۔‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’آج جو تبدیلی عزیز آباد میں آ رہی ہے اس کے لیے عمران خان نے 17 سال محنت کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اخونزادہ حسین بھی کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’نتائج کے بالاتر، اتنی تعداد میں خواتین کا ووٹ ڈالنے کے لیے آنا انتہائی حیرت انگیز ہے۔ یہ ایک بے مثل کامیابی ہے۔‘

پی ٹی آئی کے ایک اور حامی رضوان یحییٰ کہتے ہیں کہ ’کراچی میں پی ٹی آئی کی ٹیم نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سب نے ان کی تعریف کی ہے۔ اب فیصلے کا وقت ہے۔ ووٹ سمجھداری سے ڈالیں۔‘

سوشل میڈیا پر جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی افراد ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات بھی عائد کرتے رہے، وہیں ایم کیو ایم کے حامیوں کی جانب سے رینجرز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

عُول جلول نام سے ٹویٹر پر موجود احمد صدیقی نے شکوہ کیا کہ ’این اے 246 کے تمام علاقے کو سیل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہاں پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں اہلکار تعینات ہیں۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی واسع جلیل نے لکھا کہ ’کیا یہ رینجرز اہکار کی ڈیوٹی ہے کہ وہ بیلٹ پیپر یا شناختی کارڈ چیک کریں؟‘

فصیحہ فرخ کہتی ہیں: ’صرف الطاف حسین جیسا رہنما ہی اپنے لوگوں کا خیال رکھ سکتے ہیں، انھوں نے ووٹروں کو ٹھنڈا پانی پلانے کی ہدایت کی ہے۔‘

زبیر یوسف کہتے ہیں: ’ہمیشہ کی طرح پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر سب کو شکست دے دی تاہم اصل انتخابی نتائج پانچ بجے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

حلقہ این اے 246 میں بظاہر ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی آمنے سامنے ہیں تاہم ٹوئٹر پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور حامی بھی خاصے سرگرم ہیں، ان کی جانب سے VoteDoTarazuKo# ٹرینڈ کیا جا رہا ہے۔

عمران زاہد لکھتے ہیں: ’بولو کیا چاہیے۔ پتنگ اڑے گی۔ بلا چلے گا۔ ترازو انصاف کرے گا۔‘

ایم کیو ایم کے برعکس جماعت اسلامی کے حامی رینجرز کی موجودگی کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

ضیا الحق اعظم لکھتے ہیں: ’رینجرز ہمیں آپ پر فخر ہے۔ آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ کراچی میں امن چاہتے ہیں۔‘

فیس بک پر بی بی سی اردو کے صفحے پر ایک صارف داؤد سلیمانی کراچی میں ضمنی انتخابات کے بارے میں کچھ یوں تبصرہ کرتے ہیں: ’میری دعائیں تحریک انصاف کے ساتھ ہیں، دل جماعت اسلامی کے ساتھ ہے، لیکن کیا کروں، گھر نائن زیرو کے ساتھ ہے۔‘

کراچی کے حلقہ این اے 246 کے نتائج تو پولنگ کے مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے تاہم سوشل میڈیا پر ٹرینڈز اور لفظوں کی جنگ میں کوئی سیاسی جماعت پیچھے نہیں ہے۔

اسی بارے میں