این اے 246 : ’غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج میں ایم کیو ایم کامیاب‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کے مطابق مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا( فائل فوٹو)

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 میں ضمنی انتخاب کے غیر سرکاری اور غیر حمتی نتائج کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے کنور نوید نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

رابطہ کرنے پر سندھ الیکشن کمیشن کے دفتر میں ڈیوٹی پر موجود ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حلقہ این اے 246 میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اب تک سامنے آنے والے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایم کیو ایم کے کنور نوید 95 ہزار 644 ووٹ حاصل کر کے سرِ فہرست ہیں۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ تحریکِ انصاف کے عمران اسماعیل نے 24 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار کا تیسرا نمبر ہے۔

الیکشن کمیشن سندھ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخاب کا حتمی نتیجہ چند ہی گھنٹوں بعد سامنے آ جائے گا۔

خیال رہے کہ یہ نشست ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی نبیل گبول کے مستعفی ہونے کے باعث خالی قرار دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حلقے میں کل ووٹروں کی تعداد تین لاکھ 57 ہزار سے زائد ہے، جن میں دو لاکھ کے قریب مرد ووٹر ہیں

اس حلقے میں 1970 سے 1985 تک جماعت اسلامی، 1988 سے 2013 تک متحدہ قومی موومنٹ اور 1993 میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی وجہ سے مسلم لیگ بھی کامیابی حاصل کر چکی ہے۔

اس سے قبل جمعرات کی رات اس حلقے میں نئے امیدوار کے چناؤ کے لیے پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری تھی کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ٹیلی فون پر کراچی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انھیں ’کامیابی‘ پر مبارکباد دی۔

تاہم یہ اطلاعات بھی موصول ہوئیں کہ پولنگ کے بعد تحریک انصاف کے کیمپ پر توڑ پھوڑ کرنے پر ایم کیو ایم کے 15 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ویسے تو انتخابی عمل الیکشن کمیشن کے مقررہ عملے کی ذمے داری تھی لیکن بعض مقامات پر رینجرز نے اپنے طور پر یہ ذمہ داری سنبھال لی

پولیس حکام کے مطابق ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوتے ہی نامعلوم نوجوانوں نے تحریک انصاف کے انتخابی کیمپ میں توڑ پھوڑ کی اور جھنڈے کو نذر آتش کیا۔ پولیس نے موقعے پر پہنچ کر شیلنگ کی اور 15 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

ڈی آئی جی غربی فیروز شاہ کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے۔

ڈی آئی جی کے مطابق انتخابات کے بعد کیمپ بند تھا اور مشتعل افراد نے جھنڈا اتار کر نذر آتش کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے مزاحمت کی تو مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ساڑھے 11 بجے کے بعد لوگوں نے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنا شروع کیا

واضح رہے کہ کریم آباد پر تحریک انصاف کا مرکزی کیمپ قائم تھا، یہاں سے روزانہ عمران اسماعیل کی قیادت میں کارکن لیاقت آباد اور عزیز آباد جاتے تھے۔

اس سے پہلے پولنگ کے دوران رینجرز نے ایک پریزائیڈنگ افسر اور ایک شہری کو جعلی ووٹ ڈالنے کے الزام میں تین ماہ کے لیے جیل بھیج دیا۔

اس ضمنی انتخاب میں متحدہ قومی موومنٹ کے کنور نوید جمیل، جماعت اسلامی کے راشد نسیم اور تحریک انصاف کے عمران اسماعیل اور پاسبان عثمان معظم سمیت نصف درجن امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔

اسی بارے میں