کوئیک رسپانس فورس کی گاڑی پر حملہ، پانچ اہلکار زخمی

Image caption کوئیک رسپانس فورس کی گاڑی کو صبح سات بجکر 47 منٹ پر نشانہ بنایا گیا: پولیس

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گل بہار تھانے کی حدود میں پولیس موبائل پر ریمورٹ کنٹرول بم حملے کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار اور ایک راہگیر زخمی ہوگیا ہے۔

پشاور پولیس کے کنٹرول روم میں ڈیوٹی پر موجود ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گلبہار تھانے کی حدود میں کوئیک رسپانس فورس کی گاڑی معمول کی گشت پر نکلی تھی کہ اوور ہیڈل پل گلبہار کے نیچے اسے ریمورٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ریمورٹ کنٹرول بم پل کے پاس رکھے میں خفیہ طور پر رکھا گیا تھا۔

انتظامیہ کے مطابق جمعے کی صبح سات بجکر 47 منٹ پر پیش آنے والے اس واقعے میں زخمی ہونے والے چھ افراد کو لیڈی رینڈنگ ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

نامہ نگار عزیز خان کے مطابق ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے ایک پولیس اہلکار داؤد کی حالت تشویشناک ہے۔

خیال رہے کہ یہ دھماکہ حال ہی میں قائم ہونے والی نئی پولیس فورس کی گاڑی کے قریب ہوا ہے۔ اس پولیس فورس کی گاڑی پولیس کی دیگر گاڑیوں سے مختلف ہوتی ہے اور اس میں چار پولیس اہلکاروں کے علاوہ دو موٹر سائکل پر سوار اہلکار بھی موجود رہتے ہیں۔

یہ پولیس گاڑیاں اور موٹر سائکل سوار شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کرتے رہتے ہیں اور کسی بھی فوری نوعیت کے وقوعے پر پہنچتے ہیں۔

خیال رہے کہ پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی تیزی آئی ہے۔

گذشتہ ماہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے پشاور میں پاکستانی فوج کے ایک افسر لیفٹینٹ کرنل اور مانسہرہ کے علاقے اُوگی میں ایک ایف سی اہکار کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اسی بارے میں