لے اب گولی کھا

تصویر کے کاپی رائٹ T2F

پچھلے ایک ہفتے سے سبین محمود اسی غیر یقینی میں مبتلا تھی کہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں ’ان سائلنسنگ بلوچستان ٹیک ون‘ کی منسوخی کے بعد کیا کراچی کے دی سیکنڈ فلور (ٹی ٹو ایف T2F) میں ٹیک ٹو ہو بھی پائے گا ؟ مگر مرنے سے پندرہ منٹ پہلے سبین بہت خوش تھی کہ یہ سب کامیابی سے ہوگیا۔

دراصل یہ نشست دو گھنٹے چلنی تھی۔ پہلے گھنٹے میں وائس آف مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر، فرزانہ بلوچ اور میر محمد علی تالپور کو بات کرنا تھی اور سوال و جواب کا سیشن ہونا تھا۔اگلے گھنٹے میں سبین کا خیال تھا کہ میڈیا کو کٹہرے میں لایا جائے اور کم ازکم تین صحافی یا لکھاری اس سیشن میں یہ بتائیں کہ بلوچستان کے تعلق سے میڈیا کی کیا مجبوریاں ہیں۔ ٹیک ٹو سے دو روز قبل ایک اور سیمینار شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے دوسرا صحافی ذاتی مجبوری کے سبب بیک آؤٹ کرگیا۔چنانچہ تیسرے صحافی یعنی مجھے پہلے سیشن میں ہی ضم کردیا گیا۔

ہال کچھا کھچ بھرا تھا۔ ڈھائی گھنٹے بعد بھی سوالات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ سبین یوں بھی خوش تھی کہ لمز نہ سہی ٹی ٹو ایف ہی سہی۔گویا

سب پے جس بار نے گرانی کی

اس کو یہ ناتواں اٹھا لائی

سبین کی این جی او پیس نیش (گوشۂ امن ) نے گیارہ برس پہلے ایک کیفے، سستی کتابوں کے بک اسٹور اور تقریباتی ہال کو یکجا کرکے نہ نفع نہ نقصان کی بنیاد پر سماج میں بلا خوف و خطر گفتگو کی روز بروز تنگ ہوتی گنجائش سے جنم لینے والی گھٹن سے ستائے لوگوں کے لیے یہ گوشۂ عافیت کھول دیا۔

شائد اظہار کے پیاسے لوگ بھی موقع کی تلاش میں تھے۔چنانچہ پچھلے گیارہ برس میں شائد ہی کوئی دن گذرا ہو جب ٹی ٹو ایف میں کوئی نہ کوئی ایکٹوٹی نہ ہو۔کبھی سیمینار، تو کبھی مصوری کی نمائش، تو کبھی تھیٹر، تو کبھی فلم بینی، تو کبھی شاعری، تو کبھی میوزک، تو کبھی کسی خاص مہمان کو سننے کی چاہ میں آنے والے اہلِ دل۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram
Image caption سبین محمود کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ اس نشست کی ایک تصویر

بقول سبین کوئی تو ہو جو یہ سب کرے، یعنی ٹی ٹو ایف میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔مگر اس کچھ بھی ہوسکتا ہے کے گمان نے ہی سبین کی جان بھی لے لی۔

جب لمز میں بلوچستان پر خاموشی توڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تب ہی سمجھ جانا چاہیے تھا کہ بلوچستان باقی پاکستانیوں کے لیے صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی اور دلی لحاظ سے بھی نو گو ایریا ہے۔یہ بارودی سرنگوں سے بھرا میدان ہے جس کے دماغ میں آپ اپنے رسک پر ہی گھس سکتے ہیں۔پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔

ویسے آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا سبین اس لیے قتل ہوئی کہ سیمینار میں ایسی قابلِ اعتراض باتیں ہوئی ہوں گی جن کی تاب نہ لاتے ہوئے مجمع میں موجود کسی جذباتی نے موٹر سائیکل پر سبین کی گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے گولیاں برسا دیں؟

جی نہیں۔ڈھائی گھنٹے تک سب خوش تھے۔کیا مہمان، کیا میزبان، کیا بھانت بھانت کے بوڑھے اور جوان، کرسیوں، سٹولوں اور فرش پر بیٹھی خواتین، پنجوں کے بل کھڑے طلبا و طالبات، کارپوریٹی پروفیشنلز، لکھاری، صحافی، شو بزنس والے سب خوش تھے کہ کسی نے تو بات کی، کہیں تو بات ہوئی، کچھ تو سننے کو ملا۔

کسی مہمان مقرر نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو پہلے سے سب کو معلوم نہ ہو یا کہیں نہ کہیں شائع نہ ہو چکی ہو۔لاپتہ افراد، کوئٹہ تا اسلام آباد لانگ مارچ، بلوچستان کے بحران کا تاریخی پس منظر، وفاقی طرزِ عمل، بلوچستان میں شدت پسندی، میڈیا کی بے کسی یا سوچی سمجھی خاموشی، مسلح آپریشن کی نوعیت، آباد کاروں پر علیحدگی پسندوں کے حملے، بحران کا ممکنہ حل، صوبائی حکومت کی بے چارگی، بیرونی مداخلت وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ان میں سے کچھ بھی تو ایسا نہیں تھا جو میڈیا میں ٹنوں کے حساب سے شائع یا نشر نہ ہوا ہو۔ صرف اس بنیاد پر سبین قتل نہیں ہوسکتی۔

سبین قتل ہوئی اس لیے کہ جب سب رفتہ رفتہ لائن پے آ رہے ہیں تو تو افلاطون کی بچی لائن سے باہر کیسے نکل رہی ہے؟ لے اب گولی کھا۔ اور تیرے مرنے پر بھی زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟

دس بیس ہزار تعزیتی ٹویٹس، چار پانچ ہزار ریسٹ ان پیس ٹائپ فیس بک پیغامات، تین چار انگریزی اخباری مضامین، دو تین ٹاک شوز۔ نامعلوم افراد پر کٹنے والی ایک آدھ ایف آئی آر، لاہور، کراچی، اسلام آباد میں ’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘ کے مجرب مصرعے کے ہمراہ کچھ موم بتیاں اور پھول ۔۔۔بس؟

اور کوئی طرم خان جس کے پیٹ میں درد اٹھ رہا ہو؟ نیکسٹ پلیز۔۔

اسی بارے میں