سمگل ہونےوالے کچھوئے کی پانی میں واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption عالمی مارکیٹ میں ایک بلیک سپوٹیڈ کچھوں کی قیمت 250 ڈالر ہے اورسمگل کیے جانے والے 500 کچھوں کی مالیت تقریبا ایک کروڑ 28 لاکھ روپے ہے

ہیڈ بلوکی کے قریب محکمہ جنگلی حیات پنجاب کی جانب سے 200 بلیک سپوٹیڈڈ کچھوں کو پانی میں چھوڑا گیا۔ یہ وہی نایاب کچھوئے ہیں جنھیں چند روز پہلے لاہور سے بینکاک سمگل کیا جارہا تھا۔

تاہم لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کسٹم حکام نے پانچ سو سے زائد بلیک سپوٹیڈڈ کچھووں کی سمگلنگ کی کوشیش ناکام بنا دی تھی۔

کچھووں کی یہ قسم انتہائی نایاب ہے۔ اور ایک بین الاقوامی معائدے کے تحت پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں اس کی تجارت پر پابندی ہے۔ اس کے باوجود انھیں یہاں سے بڑی تعداد میں چین اور مشرق بعید کے اُن ملکوں میں سمگل کیا جاتا ہے۔جہاں ان کی بہت مانگ ہے۔

ان کچھوں کو چین اور مشرق بعید میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے جبکہ انھیں پالتو جانور کے طور پر گھروں میں رکھنے اور چین میں روایتی دوائیں بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ایک بلیک سپوٹیڈ کچھوں کی قیمت 250 ڈالر ہے اورسمگل کیے جانے والے 500 کچھوں کی مالیت تقریبا ایک کروڑ 28 لاکھ روپے ہے۔

محکمہ جنگلی حیات پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعیم بھٹی نے بی بی سی کو بتایا ’ یہ محض اتفاق ہے کہ یہ کچھوئے زندہ تھے۔ انھیں پانی سے نکال کر لفافوں اور دوسرے سامان میں ڈال کر جس طرح سے سمگل کیا جارہاتھا ان کے زندہ بچنے کے امکانات کافی کم تھے۔‘

کچھووں کی سمگلنگ کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے کراچی اور اسلام آباد سے بھی کئ مرتبہ کچھووں کی سمگلنگ کی کوشیشوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ اور گذشتہ برس تو شاہراہ قراقرم کے ذریعے سوست بارڈر سے بھی نایاب کچھووں کو غیرقانونی طور پر چین بھجوانے کی کوشیش منظرعام پر آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کچھوے دوسری آبی حیات کی بقا کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں اور خاص کر سمندروں دریاوں اور ندی نالوں کی تہہ میں صفائی کا کام کرتے ہیں

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادار ے کی ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ڈائریکٹر عظمی خان کہتی ہیں کہ ’اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں آج تک وائلڈ لائف قوانین کے تحت کسی کو قید کی سزا نہیں دی گئی۔ پنجاب میں اس طرح کے جرائم میں دو سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ لیکن جب خلاف ورزی کرنے والوں کو عدالتوں میں لے جایا جاتا ہے تو انھیں محض جرمانوں کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘

پاکستان میں خاص طور دریائے سندھ اور اس سے ملحقہ ندی نالوں اور پنجاب میں مختلف بیراجوں دریاوں اور نہروں میں کچھووں کی نو اقسام پائی جاتی ہیں جو ماحولیاتی آلودگی شکار پانی کی کمی اورسمگلنگ کی وجہ سے ناپید ہوتی جارہی ہیں۔

کچھوے دوسری آبی حیات کی بقا کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں اور خاص کر سمندروں دریاوں اور ندی نالوں کی تہہ میں صفائی کا کام کرتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف میں کچھوں کی حفاظت کے پروگرام کی نگران عظمی نورین کہتی ہیں کہ ’ہم نے گذشتہ چند برسوں کے دوران صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر کافی کام کیا ہے۔ ہم نے کسٹم حکام کی تربیت اور آگہی کے لیے بھی اقدامات کیے اور اب نتیجہ یہ ہے کہ کچھووں کی سمگلنگ کو روکنے میں کافی مدد مل رہی ہے۔‘

پکڑے جانے والے کچھووں کو عارضی طور پر لاہور کے چڑیا گھر اور سفاری پارک میں رکھا گیا تھا۔ 300 کچھووں کو ہفتہ کو تونسہ بیراج پر چھوڑا جائے گا۔

محکمہ جنگلی حیات پنجاب کے ڈائریکڑ جنرل خالد ایاز خان نے بتایا کہ ’ ہم وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں تک پہنچنے کی کوشیش کررہے ہیں جو نایاب جانوروں کی سمگلنگ اور شکار میں ملوث ہیں۔ ائیرپورٹس پر بھی ہمارے کاونڑ ہیں لیکن ہم روانگی کے لاونج میں موجود نہیں ہوتے اور ہمیں عموعا سمگلنگ کی کوشش کا تب ہی پتہ چلتا ہے جب کسٹم حکام ہمیں آگاہ کرتے ہیں۔‘

مختلف صوبوں میں نایاب کچھوں کی حفاظت اور ان کے غیرقانونی شکار تجارت اور سمگلنگ میں ملوث افراد کی سزاوں اور جرمانے کے مختلف قوانین ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی عظمی نورین کہتی ہیں کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب حکومتیں اس معاملے میں کافی دلچسپی لے رہی ہیں۔سندھ میں ایسے ایک کچھوئے کو پکڑنے پر 20 ہزار روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے یہ کچھوئے پانی میں موجود ایسے کیڑوں کو بھی تلف کرتے ہیں جو فضلوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایکو سسٹم میں ان کی موجودگی کئی حوالوں سے بہت اہم ہے۔

اسی بارے میں