سوات میں امن کمیٹیوں کے ممبران حملوں سے خوفزدہ

Image caption سوات کے مختلف علاقوں میں 2014 کے دوران امن کمیٹیوں کے 20 کے قریب ممبران کو ہدف بنا کر قتل کیاگیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں قومی لشکر اور امن کمیٹیوں کے ممبران کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اب سکیورٹی حکام نے انھیں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

سوات میں شدت پسندوں کی جانب سے امن کمیٹیوں کے ممبران اور قومی لشکر کے رضا کاروں کو آئے روز دھمکیاں ملتی رہتی ہیں وہاں ان کمیٹیوں کے ممبران کو عسکریت پسندوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ بھی رہتا ہے تاہم مقامی لوگ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ شدت پسند آسان اہداف کے جانب مائل ہونا ان کی کمزوری کی علامت ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف حکومت اور عوام کا عزم توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوات میں امن کمیٹیوں کے ممبران کو سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہدایات دی گئی ہے کہ وہ رات کو گھروں سے نہ نکلیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ ساتھ رکھیں۔

سوات میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے ترجمان کرنل فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں اب مکمل طور پر امن قائم ہے تاہم اس کا مقصد یہ ہے کہ امن کمیٹیوں کے ممبران اپنے اردگرد کے ماحول اور انجان لوگوں پر نظر رکھیں تا کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہو

امن کمیٹیوں کے ممبران پر شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے متعدد ممبران علاقہ چھوڑ گئے ہیں۔

سوات قومی امن جرگے کے ترجمان رحمت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ امن کمیٹیوں کے ممبران کی ٹارگٹ کلنگ میں شدت اور دھمکیوں کے بعد بیشتر ممبران یا تو بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں یا علاقہ چھوڑ کر ملک کے دیگر نسبتاً محفوظ علاقوں میں چلے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوات میں طالبان کے خلاف آپریشن کے بعد فوج اب بھی تعینات ہے

انھوں نے نیک پی خیل امن جرگے کے ادریس خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اپنے خاندان سمیت امریکہ منتقل ہو چکے ہیں۔

رحمت شاہ نے مزید بتایا کہ امن کمیٹیوں کے ممبران کو ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے سکیورٹی فورسز نے انھیں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے

سوات قومی امن جرگے کے سربراہ سید انعام الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کے جغرافیائی صورتحال سے واقف امن لشکر اور امن کمیٹیاں اپنے علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں تاہم کافی عرصے سے یہ کمیٹیاں حکومتی عدم توجہ کا بھی شکار ہیں اور آج تک سوات کے کسی بھی علاقے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے امن کمیٹی کے ممبر کے ورثا کو حکومت کی طرف سے کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی۔

خیال رہے کہ سوات کے مختلف علاقوں میں 2014 کے دوران امن کمیٹیوں کے 20 کے قریب ممبران کو ہدف بنا کر قتل کیاگیا ہیں جس کی وجہ سے امن کمیٹیوں کے ممبران خوف کا شکار ہیں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے امن کمیٹیوں کے ممبران علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں اور نقل مکانی کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسی بارے میں