سری لنکن ٹیم پر حملے میں ملوث ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption تین مارچ سنہ 2009 کو پاکستان کے دورے پر آئی سری لنکن ٹیم پر لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے کچھ دور لبرٹی چوک میں اس بس پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جو سری لنکن ٹیم کے ارکان کو سٹیڈیم لے جا رہی تھی

پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس کا کہنا ہے کہ داروغہ والا کے علاقے میں اتوار کی رات ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے میں سری لنکن ٹیم پر حملے اور ٹارگٹ کلنگز کے مختلف واقعات میں ملوث تین ملزمان ہلاک ہو گئے۔

لاہور پولیس کے ترجمان نایاب حیدر کے مطابق ہلاک ہونے والے حفیظ اللہ عرف محمد احمد قاسم رفیق اور یاسر کے نام انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے اور ان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی سے تھا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حفیظ اللہ کے سر کی قیمت 20 لاکھ جبکہ قاسم رفیق کے سر کی قیمت 12 لاکھ روپے مقرر تھی۔

نایاب حیدر کے مطابق اتوار کی رات کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی ماڈل ٹاون کو یہ اطلاع ملی کہ قاسم رفیق کے کچھ اور ساتھی داروغہ والا کے علاقے شریف پورہ میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے قاسم رفیق کو حوالات سے نکالا اور اسے لے کر داروغہ والا روانہ ہوئے تاکہ وہاں چھپے ہوئے ملزمان کی شناخت ہوسکے تاہم جب پولیس موقعے پر پہنچی تو ملزمان کی جانب سے فائرنگ شروع ہوگئی جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔

لاہور پولیس کے ترجمان مطابق کراس فائرنگ کا سلسلہ آدھے گھنٹہ جاری رہا جس کے دوران حفیظ اللہ عرف محمد احمد قاسم رفیق اور یاسر ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر ملزمان کے قبضے سے کلاشنکوفیں اور ہینڈگرینڈ بھی برآمد ہوئے۔

نایاب حیدر کے مطابق ہلاک ہونے والے حفیظ اللہ کا تعلق شیخوپورہ، یاسر کا تعلق ملتان اور قاسم رفیق لاہور کے بادامی باغ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ تین مارچ سنہ 2009 کو پاکستان کے دورے پر آئی سری لنکن ٹیم پر لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے کچھ دور لبرٹی چوک میں اس بس پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جو سری لنکن ٹیم کے ارکان کو سٹیڈیم لے جا رہی تھی۔

اس واقعہ میں سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی جبکہ چھ پولیس اہل کار ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں