طوفانی بارش سے خیبر پختونحوا میں 44 ہلاک، مزید بارشوں کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیز ہواؤں اور ژالہ باری کے نتیجے میں بہت سی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے

پاکستان کےمحکمۂ موسمیات کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں آئندہ کچھ دنوں تک غیر ممعولی موسم کا امکان ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں طوفان اور بارش کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 44 ہوگئی ہے۔

پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں گذشتہ شب تیز آندھی چلی اور طوفانی بارشیں ہوئیں۔ جس سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پشاور اور اُس کے مضافات میں رواں ہفتے کے دوران تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے جبکہ مئی کے اوائل میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔

کمشنر پشاور کے دفتر میں معلومات کے لیے قائم خصوصی سیل میں ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید بارش اور طوفان کے نتیجے میں 44 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں گذشتہ رات شدید بارش کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کے لیے 50، 50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل کمشنر پشاور نے بتایا تھا کہ کچھ ہی دیر میں متاثرین تک امداد پہنچ جائے گی جس میں کھانے پینے کی اشیا اور ٹینٹ سمیت دیگر ضروری چیزیں شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ’پشاور میں 30، چارسدہ میں نو اور نوشہرہ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔‘

پشاور میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 162 ہے۔ چارسدہ میں 18 افراد زخمی ہوئے جبکہ نوشہرہ میں یہ تعداد 45 ہے۔

کمشنر پشاور کے مطابق سیلابی صورتحال کا امکان نہیں ہے۔

ادھر وزیراعظم نواز شریف نے پشاور میں بارش کے باعث ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور صوبائی حکومت سمیت امدادی اداروں کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بارش اور تیز آندھی سے پشاور شہر میں اب تک 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 62 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں

موسمیاتی ریڈ الرٹ

محکمہ موسمیات اسلام آباد کے مطابق اس وقت پاکستان میں موسم تبدیل ہو رہا ہے اور رواں ہفتے کے درمیانی حصے اور مئی کے پہلے ہفتے کے دوران خیبر پختنخواہ کے بالائی علاقوں پشاور، مالاکنڈ، مردان اور ہزارہ ڈویژن سمیت شمالی پنجاب میں اسلام آباد، راولپنڈی، سرگودھا ڈویژن اور کشمیر میں بارش اور طوفانی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

ماہر موسمیات امجد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ پشاور کے علاوہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بالائی علاقوں، اور کشمیر اور دارالحکومت اسلام آباد میں بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔‘

خیبر پختونخواہ کے بالائی علاقوں مالاکنڈ، ہزارہ پشاور، مردان ڈویژن، راولپنڈی، اسلام آباد، کشمیر اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بارش کا سلسلہ گذشتہ رات سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ 59 ملی میٹر بارش پشاور میں ریکارڈ کی گئی۔

  • رسالپور 39 ملی میٹر۔
  • کاکول 27 ملی میٹر۔
  • مظفر آباد 20 ملی میٹر۔
  • مری 13 ملی میٹر۔

محکمۂ موسمیات کے ڈاکٹر محمد حنیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پشاور اور دیگر بالائی علاقوں میں تیز آندھی اور بارش ہونے کی پیشنگوئی کی گئی تھی لیکن جس شدت کی بارش اور آندھی دیکھی گئی ہے یہ پاکستان کی تاریخ میں ان دنوں کے دوران اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ سی ایم ایچ پشاور میں بھی ڈاکٹر اور طبی عملے الرٹ ہے

محمد حنیف نے مزید بتایا ہے کہ اس قبل دو بار اپریل کے ہی مہینے میں اس قسم کی بارشیں اور تیز ہواؤیں چلیں تھیں لیکن اس بار آندھی کی رفتار 110 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی اور اسے ’ منی ٹورنیڈو یا ٹوئسٹر‘ کہا جا سکتا ہے۔ ان علاقوں میں موسمیاتی ریڈ الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار عزیر اللہ خان کے مطابق ریسکیو 1122 نے بتایا ہے کہ امدادی آپریشن میں فوج کی دو بٹالین بھی حصہ لے رہی ہیں۔ ’چارسدہ روڈ، رنگ روڈ، جی ٹی روڈ پر امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور ریلیف آپریشن میں 200 سے زائد اہلکار شامل ہیں۔‘

اتوار کو شام کے وقت تیز ہواؤں کے ساتھ شروع ہونے والی تیز بارش کے نتیجے میں پشاور اور اُس کے مضافاتی علاقے چارسدہ روڈ، ثمر باغ، بڈھنی پل اور لیاقت آباد میں مکانات کی چھتیں گرنے سے شدید نقصان ہوا ہے۔

بارش اور تیز ہواؤں میں درختوں کے گرنے سے بجلی اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔

چارسدہ کے قریب سیاحتی مقام سردریاب میں دریا کے کنارے تفریح کے لیے بنائی گئی جھونپڑیاں اور چھوٹے چھوٹے ہوٹل بھی تیز ہواؤں سے شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ژالہ باری کے نتیجے میں بہت سی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں