کلاچی میں فوجی قافلے پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک طالبان پاکستان پاکستانی فوج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہتی ہے

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب کلاچی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قافلے کے قریب دھماکے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

اسی علاقے میں پیر کو بھی سکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا تھا۔

یہ واقعہ پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی صبح سات اور ساڑھے سات بجے کے درمیان پیش آیا۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ کلاچی کی جانب آ رہا تھا کہ آبادی سے کوئی پانچ کلومیٹر دور ہتھالہ روڈ پر زور دار دھماکہ ہوا۔

اس دھماکے میں ایک صوبیدار ہلاک ہوا ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنھیں فوجی ہسپتال سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی تھی لیکن انھیں اس واقعے کے مقام تک رسائی نہیں دی گئی۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

پولیس کے مطابق گذشتہ روز پیر کو بھی کلاچی کے علاقے میں لونی روڈ پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ ہوا تھا جس میں ایک اہلکار کو معمولی زخم آئے تھے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ گذشتہ روز کے حملے میں زخمیوں کی تعداد دو سے تین تک تھی لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تحصیل کلاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئی 45 کلومیٹر دور شمال مغرب میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے کے قریب واقع ہے۔

کچھ عرصے سے یہاں شدت پسندی نے جڑیں پکڑی ہیں۔ دو ماہ پہلے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی اداروں نے مشترکہ کارروائی کی تھی جس میں حکام کے مطابق سات مشتبہ شدت پسند فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

کلاچی میں اطلاعات کے مطابق سال 2008 کے بعد سے شدت پسند متحرک ہونا شروع ہوئے تھے۔ کلاچی میں گذشتہ سال عید کے روز پاکستان تحریک انصاف کے اس وقت کے وزیر قانون اسرار اللہ خان گنڈہ پور کو بھی ایک خود کش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں