ایمنسٹی کو پاکستان میں پھانسیوں پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption تنظیم کے مطابق پاکستان میں منگل کو 100 ویں پھانسی دی گئی ہے

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان نے دسمبر میں سزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کے بعد سے سو افراد کو پھانسیاں دینے کا ’شرمناک سنگ میل‘عبور کر لیا ہے۔

تنظیم کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پھانسیاں دینے والے ملکوں کی صف میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اُس نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد17 دسمبر سے پھانسیوں پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد سے آج منگل تک پاکستان میں 100 پھانسیاں ریکارڈ کی ہیں۔

منگل کی صبح صوبہ پنجاب میں قتل کے ایک مجرم منیر حسین کو پھانسی دی گئی۔

تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صرف چار ماہ میں سو لوگوں کو پھانسیاں دے کر پاکستانی حکام یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کے لیے انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پشاور میں بچوں کے سکول پر طالبان کے حملے کے بعد قومی ایکشن پلان کے تحت پھانسی پر عائد پابندی ہٹائی گئی تھی

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں نائب نگراں ڈیوڈ گریفتھ نے کہا کہ ہمارے خدشات اس لیے بڑھ گئے ہیں کہ کئی مقدموں میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور وہ بین الاقوامی قانون کے طے کردہ کم ترین معیار پر بھی پورا نہیں اترتے۔

انہوں نے کہا کہ’ موت کی یہ کنویئر بیلٹ، جرم اور دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کے حل میں قطعی طور پر مددگار نہیں ہو سکتا اس لیے اسے فوری ختم کیا جائے۔‘

ڈیوڈ گریفتھ نے کہا کہ ’پاکستان میں پھانسیوں کی تعداد میں حالیہ ہفتوں کے دوران خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اب یہ روز کا معمول بن گیا ہے۔ اگر حکومت پاکستان نے فوری طور پر پھانسیوں پر دوبارہ پابندی عائد نہ کی تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سال مزید کتنی زندگیاں ضائع ہوں گی۔‘

ایمنسٹی کے بیان کے مطابق قتل اور دہشت گردی کی کارروائیوں جیسے سنگین بے حد قابل مذمت ہیں مگر انصاف کے نام پر لوگوں کو مارنا کسی طور اس کا توڑ نہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ جرائم کرتے ہیں، ان پر سزائے موت کی طرف جائے بغیر شفاف انداز میں مقدمے چلائے جانے چاہییں۔

اسی بارے میں