ملالہ پر حملہ کرنے والے 10 افراد کو عمر قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملالہ یوسفزئی پر 2012 میں اُس وقت حملہ کیا گیا تھا جب وہ اپنے سکول سکے گھر جا رہی تھیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سوات سے تعلق رکھنے والی نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی پر سنہ 2012 میں حملہ کرنے والے 10 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے خصوصی عدالت نے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حملے میں معاونت کرنے والے دس مجرمان کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی۔

ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے شدت پسند گرفتار

ملالہ اور’سازشوں میں گھرا پاکستان‘

سوات سے صحافی انور شاہ کے مطابق مجرمان کا تعلق سوات کے مختلف علاقوں سے بتایا گیا ہیں جن میں شوکت، عرفان، اظہار، اسرار، سلیمان، بلال، ظفر علی، سلیمان، اکرام اور عدنان شامل ہیں۔

ملالہ یوسفزئی کی عمر اُس وقت عمر 15 سال تھی اور سکول سے وین میں گھر جاتے ہوئے ایک حملے میں ان کے سر پر گولی لگی تھی۔

اس حملے میں ان کے ساتھ دو اور طالبات شازیہ اور کائنات زخمی ہوگئی تھیں۔

انھیں سنہ 2014 میں بچوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان دس افراد کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی اور اس حملے کا مرکزی ملزم عطا اللہ جن کا تعلق سوات کے علاقے سنگوٹہ سے تھا وہ افغانستان فرار ہوگئے تھے، جس کے بعد سنہ 2013 اور سنہ 2014 میں سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے حملے میں معاونت کرنے والے 10 ملزمان کو گرفتار کیا تھا جن کی شناخت خفیہ رکھی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملالہ پر حملے میں ان کے ساتھ دو اور طالبات شازیہ اور کا ئنات زخمی ہوگئی تھی

ملالہ حملہ کیس کی ایف ائی آر تھانہ سیدو شریف میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کی گئی تھی۔

اس سے پہلے ملالہ حملہ کیس میں استغاثہ نے شواہد کی کمی کی بنا پر اسے ناقابل سماعت قرار دیکر پولیس کو واپس کر دیا تھا۔

اس وقت ملالہ حملہ کیس کی تفتیشی افسر عبدالواحد نے بتایا تھا کہ ملالہ کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ٹیم لندن جائے گی جس کے بعد اس کیس کی حتمی رپورٹ کبھی سامنے نہیں آئی۔

ملالا یوسفزئی کو بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے پرگذشتہ برس نوبل انعام دیاگیا تھا جبکہ اس سے پہلے بھی انھیں تعلیم کے حصول کے لیے طالبان کے سامنے ڈٹ جانے پر کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ہے۔

اسی بارے میں