نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان رابطہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو ٹیلی فون کر کے نیپال کے زلزلے میں بھارتی شہریوں کی ہلاکت پر تعزیت کی ہے۔

نواز شریف نے نریندر مودی سے نیپال میں آنے والے زلزلے کے نیتجے میں 61 بھارتی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔

اس موقع پر نریندر مودی نے نواز شریف کو قدرتی آفت کی صورت میں سارک ممالک کے ڈاکٹروں اور ریسکیو ٹیموں کی ہرسال مشترکہ مشقیں کرنے کی تجویز دی۔

’بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہش کاجواب نفی میں ملا‘

’مذاکرات منسوخ ہوئے ہیں، سلام دعا سے تو نہیں گئے‘

بھارت پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے: مودی

واضح رہے کہ 25 اپریل کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں 7.9 شدت کا شدید زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں اب تک ساڑھے پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

اس سے ایک دن پہلے نواز شریف نے سعودی گزٹ کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کی جانب سے بہتر تعلقات کی خواہش کا جواب بھارت نے منفی انداز میں دیا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان بھارت سمیت خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ اچھا تعلقات چاہتا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرت کے عمل کو یک طرفہ طور پر ختم کیا ہے اور بھارت کی جانب سے مذاکرت کی بحالی کے لیے کوششیں بھی نہیں کی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’وزیراعظم نواز شریف کی کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے بھارت کے مختلف حصوں میں زلزلے سے تباہی ہر اظہارِ افسوس کیا‘
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کی نیپال میں کوششوں کو سراہا اور میں نے ان کا شکریہ ادا کیا‘
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’میں نے وزیراعظم نواز شریف کو تجویز دی کہ سارک ممالک کو قدرتی آفات کے بعد امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں کے لیے مشترکہ مشقیں کرنی چاہیں‘
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’سارک ممالک مل کر ایسی سالانہ مشقیں کر سکتے ہیں جن میں امدادی ٹیمیں اور ڈاکٹر شامل ہوں کہ کیسے قدرتی آفات کے نتیجے میں نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے‘
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’وزیراعظم نواز شریف نے اس تجویز کو پسند کیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات کیے جانے چاہیں‘
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’وزیراعظم نواز شریف اور میں نے بے موسمی بارشوں اور اس کے فصلوں پر اثرات پر بھی بات کی‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر سمیت تمام تنازعات پر تعمیری مذاکرات کے خواہاں ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں اور پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ دونوں میں لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاچین کے تنازعے کے بعد حالات بہت کشیدہ تھے لیکن سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی اور کشیمر سمیت تمام مسائل کے حل کے لیے جامع مذاکرات شروع ہوئے۔

سنہ 2008 میں بھارت کے شہر ممبئی میں شدت پسندوں کے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے جو اب تک دوبارہ بحال نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں