اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ہیلپ لائن

Image caption اقلیتوں کی مدد کے لیے ایک ہیلپ لائن بنائی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کے رہائشی ندیم مسیح ایک مرلے پر بنے کمرے میں اپنے خاندان کے ہمراہ کسمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن آج سے ایک سال پہلے ان کے حالات ذرا مختلف تھے۔

وہ اسی کمرے سے منسلک ایک بڑے گھر میں اپنے بیوی بچوں اور والدین کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ پھر ان کے چھوٹے بھائی عاصم نے ایک مسلمان لڑکی ثانیہ سے شادی کر لی اور حالات کی خرابی اور ڈر وخوف کی وجہ سے گھر بیچنا پڑا۔

ندیم مسیح بتاتے ہیں کہ’عاصم اور ثانیہ کالونی سے بھاگ گئے تھے۔ جس کے بعد محلےمیں کافی مسئلہ ہوگیا۔مولوی لوگ دھمکیاں دینے لگے کہ ہم آپ کی لڑکیاں اُٹھا لیں گے۔اسی ڈر کی وجہ میرے خاندان سمیت تمام محلے والے اپنا گھر بار چھوڑ کر رشتہ داروں کے ہاں چلے گئے۔میرے والدکو خبر ملی تو وہ ہارٹ اٹیک سے انتقال کرگئے۔‘

ندیم مسیح نے اس صورتحال کے پیشِ نظر اقلیتوں کے لیے بنائی گئی ہیلپ لائن پر رابطہ کیا اور ایک غیرسرکاری تنظیم کے کارکنوں نے محلے کے سماجی کارکنوں، مسلمان برادری، مولوی اور پولیس کی مدد سے اس مسئلے کو حل کروایا۔

عاصم نے باقاعدہ اسلام قبول کرکے ثانیہ سے نکاح کیا لیکن خوف کی وجہ سے سوائے ندیم کے پورے خاندان کو گھر بار بیچ کر کسی دوسرے علاقے منتقل ہونا پڑا۔

غیر سرکاری تنظیموں پر مشتمل ریٹ نیٹ ورک سے منسلک سماجی کارکن نوید والٹر کا دعویٰ ہے کہ ضلعے فیصل آباد دو سال کے عرصے کے دوران انھوں نے عاصم اور ثانیہ جیسے کیسز سمیت 25 ایسے کیسز حل کروائے جس میں توہینِ مذہب کا الزام لگنے یا مشتعل ہجوم کے حملے کا خطرہ تھا۔

’ہمیں جب کوئی شخص ہمارے ٹول فری نمبر پر اطلاع دیتا ہے تو فوری طور پر ہماری ٹیم وہاں پہنچ کے صورتحال کو سنبھالتی ہے۔ اگر کوئی ہجوم حملہ کرنے کا سوچ رہا ہو، کسی جگہ کو جلائے جانے کی صورتحال بن رہی ہوتی ہے تو ہم علاقے کے مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، پولیس، وکلاء اور مقامی سیاسی رہنماؤں سمیت میڈیا سے رابطے کرتے ہیں، انھیں ملوث کرتے ہیں۔‘

Image caption ندیم مسیح نے اس صورتحال کے پیشِ نظر اقلیتوں کے لیے بنائی گئی ہیلپ لائن پر رابطہ کیا

محلے میں بلامعاوضہ اقلیتی برداری کی دادرسی کرنے والے سماجی کارکن ٹامس راجا بتاتے ہیں کہ وہ اپنے محلے کے لوگوں کے حال احوال سے واقف رہنے کے لیے ان سے ملتے جلتے رہتے ہیں۔

’جب عاصم اور ثانیہ کا مسئلہ منظر عام پر آیا تو بات جلاؤ گھیراؤ تک آ گئی۔عموماً جو لوگ مسئلے کو سُلجھانے میں ساتھ دیا کرتے تھے۔ہم آپ کی مدد نہیں کر سکتے لیکن میں نے ریٹ نیٹ ورک کے رضاکاروں کے ساتھ مل کر اپنے مسلم اور عیسائی دوستوں سے بات کی۔ ان کے علاوہ علاقے کے ایس ایچ او نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔جس کی وجہ سے یہ معاملہ حل ہو پایا۔‘

پاکستان میں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ توہینِ مذہب کا الزام لگتے ہی اس سے پہلے کہ معاملہ عدالت میں جائے مشتعل ہجوم اس کا فیصلہ سڑکوں پر کر دیتاہے۔ اکثر ایسے واقعات غلط فہمی یا ذاتی رنجش کی وجہ سے پیش آنے کی اطلاعات ملتی ہیں۔اس کی ایک مثال اسلام آباد کی رہائشی رمشاء مسیح کی ہے جس پہ لگنے والا توہینِ مذہب کا الزام عدالت میں غلط ثابت ہوا تھا۔

Image caption نوید والٹر کا دعویٰ ہے کہ ضلعے فیصل آباد دو سال کے عرصے کے دوران انھوں نے عاصم اور ثانیہ جیسے کیسز سمیت 25 ایسے کیسز حل کروائے

نوید والٹر کہتے ہیں کہ ’اگر ہم یہ ایسے کیسز حل نہ کروائیں تو خدانخواستہ کوئی شانتی نگر جیسا یا پھر جوزف کالونی جیسا واقعہ بھی ہو سکتا ہے۔‘

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اقلیتیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی حکومتی ترجیح میں شامل نہیں رہی۔اس صورتحال میں اقلیتیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ان تنظیموں اور سرگرم کارکنوں کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔

اسی بارے میں