ایم کیو ایم پر’را‘ سے روابط کے الزام، ایس ایس پی تبدیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

متحدہ قومی موومنٹ پر بھارتی خفیہ ادارے را سے روابط رکھنے کا الزام عائد کرنے والے پولیس افیسر ایس ایس پی راؤ انور کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور انھیں پولیس کے مرکزی دفتر میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سندھ پولیس کی طرف سے جمعرات کی رات کو جاری کیے گئے ایک اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے راؤ انور کی پریس کانفرنس کا شدید نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو اس معاملے میں مکمل تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

سندھ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ راؤ انوار نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس وجہ سے ان کا ملیر سے تبادلہ کیا گیا اور انہیں پولیس کے مرکزی دفتر میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ راؤ انور نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں محتدہ قومی موومنٹ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے جن میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ سے تربیت حاصل کرنے کا الزام بھی شامل تھا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انور نے ’را‘ سے روابط کے الزامات عائد کرنے کے ساتھ وفاقی حکومت سے درخواست کی تھی کہ متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی عائد کی جائے۔

راؤ انور نے ایم کیو ایم پر الزامات دو ملزمان طاہر لمبا اور جنید کے بیانات کی بنیاد پر عائد کیے۔ ایس ایس پی نے دعوی کیا کہ دونوں ملزمان نے را سے تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا ہے اور دونوں کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت نے ان الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے انھیں ایک ’سیاسی ڈارمے‘ قرار دیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان واسع جلیل نے راؤ انوار کی پریس کانفرنس کو اس سال کا سب سے مزاحیہ لطیفہ قرار دیا اور کہا کہ ’یہ ایک تحریری سکرپٹ تھا جس میں طاہر نامی شخص سے طوطے کی طرح بلواکر بیان لیا گیا۔‘

گرفتار ملزمان سے تفتیش کی روشنی میں راؤ انوار نے دعوی کیا تھا کہ ایم کیو ایم کے کارندے جب کبھی کراچی میں آپریشن ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں پھیل جاتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ ایک سیاسی جماعت ہوتے ہوئے پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہے اور تخریب کاری میں اس نے بھارتی ایجنسی ’را‘ کا سہارا لیا ہوا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزمان نے 50 سے زائد ایسے لڑکوں کے بارے میں بتایا ہے جو بھارت سے تربیت یافتہ ہیں یہ لڑکے ہر سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں اور گروہ کی صورت میں بھارت جاتے ہیں۔

راؤ انوار کا کہنا تھا کہ یہ لڑکے کراچی سے بینکاک یا سنگاپور جاتے ہیں، جہاں لندن سیکریٹریٹ سے ذوالفقار حیدر، ندیم نصرت اور محمد انور سے رابطہ کرتے ہیں، جو انھیں وقاص نامی شخص کا فون نمبر دیتا ہے اور وقاص ان کے پیسے سمیت دیگر انتظامات کر دیتا ہے۔

اسی بارے میں