’خلوص دل کے ساتھ معافی کا طلبگار ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption الطاف حسین متعدد بار اپنے بیانات پر معافی مانگ چکے ہیں

بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ سے مدد طلب کرنے کے بیان پر لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے معافی مانگ لی ہے۔

پاکستان کے 14 بڑے نشریاتی اداروں پر براہ راست نشر ہونے ہونے والی تقریر کے بارے میں الطاف حسین نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ’میری گزشتہ رات کی تقریر کوسیاق وسباق سے ہٹ کر پڑھا گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ جمعرات کی رات کو الطاف حسین نے لندن سے اپنے ایک خطاب میں فوج کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ الطاف حسین کے اس بیان پر فوج کی قیادت نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کی وفاقی حکومت کی طرف سے ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ وہ الطاف حسین کے تازہ بیان کا معاملہ برطانوی حکومت سے اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے کہ وہ اپنے ایک شہری کو پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے سے روکیں۔

الطاف حسین نے کہا کہ ’: میں نے را سے مدد کی بات صرف اورصرف طنزیہ طورپر کہی تھی تاہم اگر میرے ان جملوں سے قومی سلامتی کے اداروں اور محب وطن افراد کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں ان سب سے خلوص دل کے ساتھ معافی کا طلبگار ہوں۔‘

برطانوی شہریت اختیار کرنے والے محتدہ قومی موومنٹ کے رہنما نے کہا کہ ’:پاکستان ہمارا وطن تھا ، ہمارا وطن ہے اور ہمارا وطن رہے گا ۔میں یہ بھی واضح کردوں کہ مہاجروں کی پاکستان کے سوا کسی اور سے کوئی وابستگی نہیں، ہمارا جینا مرنا پاکستان سے وابستہ ہے ۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ’ضرب عضب ‘ کی حمایت میں سب سے بڑی ریلی ایم کیوایم نے نکالی تھی اور میں نے لاکھوں عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر پاک فوج کو سیلوٹ پیش کیا، میں پاک فوج کا کل بھی احترام کرتا تھا اورآج بھی احترام کرتا ہوں۔‘

الطاف حسین نے کہاکہ باربار ٹیلی ویژن پر گرفتارشدگان کو لاکر اُن کا تعلق ’را‘ سے جوڑ کر اِس کا الزام ایم کیوایم پر لگایا جائے گا تو بار بار ملک دشمنی کے الزامات سن کر ایک انسان کا دکھی اور رنجیدہ ہونا فطری عمل ہے۔ ’ پھر بھی میرے اس جملے سے کسی ادارے یا محب وطن عوام کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اِس پر خلوص دل کے ساتھ معافی کا طلبگار ہوں ۔ اُنھوں نے کہا کہ میں نے اپنے خطاب میں واضح طورپر کہاتھا کہ پاکستان ہمارا وطن تھا ، ہمارا وطن ہے اور ہمارا وطن رہے گا۔

الطاف حسین اِس سے قبل بھی کئی مرتبہ اپنے بیانات پر معافی مانگ چکے ہیں۔

اسی بارے میں