پیمرا کی طرف سے 14 چینلوں کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پیمرا نے نشریاتی اداروں کو ایک ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے

بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ سے مدد طلب کرنے کے بارے میں ایم کیو ایم کے رہنما کا بیان نشر کرنے پر پاکستان کی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے ملک کے 14 نشریاتی اداروں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے ہیں۔

دوہری شہریت رکھنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین نے لندن سے اپنے ایک روائتی ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کی فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس میں انھوں نے بھارتی خفیہ ادارے را سے مدد طلب کرنے کی بھی بات کی تھی۔

اس بیان کو کئی ٹی وی چینلوں پر براہ راست نشر کیا گیا تھا۔ جس کے بعد حکومتِ پاکستان اور فوج کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

وفاقی حکومت کی درخواست پر جمعہ کو پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک کے اُن چودہ نیوز چینلز کو اظہار وجوہ کےنوٹس جاری کیے ہیں جنہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقریر کو براہراست نشر کیا تھا۔

وفاقی حکومت کی طرف سے لکھے گئے خط میں حکومت نے ایم کیو ایم کے خطاب کو عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت آزدی صحافت کی حامی ہے لیکن معاشرے میں اختلافات پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پیمرا نے پاکستان کے تمام نشریاتی اور ابلاغ کے اداروں کو یہ ہدایت بھی جاری کی ہے کہ پیمرا کے قواعد و ضوابط کی شق 27 کے تحت ملکی سلامتی، فوج اور عدلیہ کو کسی طور بھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔

پیمرا کے ایک ترجمان کے مطابق نوٹس میں ان چودہ چینلز سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے پروگراموں میں ’ڈیلے ڈیوائس سسٹم‘ کا اطلاق کریں جس میں نفرت انگیز مواد ہو یا پھر معاشرے میں منافرت پھیلانے کی بات کی جارہی ہو۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے الطاف حسین کے بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجی قیادت کے خلاف اس طرح کے بیان کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیے جاسکتے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کا بیان کسی طور پر بھی کسی پاکستانی کا بیان نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی کی مدد طلب کرنے کے بیان پر اُن لاکھوں افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے ہندوستان سے ہجرت کی تھی۔

خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے اور اس کی قیادت کو ملک دشمنوں کی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ الطاف حسین نے فوجی قیادت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا بلکہ آرمی چیف سے کہا ہے کہ وہ اُنھیں انصاف دلائیں۔

اُدھر حکومت نے ایم کیو ایم کے قاید الطاف حسین کی فوجی قیادت کے خلاف بیان اور لوگوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کا معاملہ برطانوی حکومت کے ساتھ اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جلد ہی پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات کریں گے اور اُن سے اطاف حسین جو کہ ایک برطانوی شہری ہیں، کی طرف سے فوجی قیادت کے خلاف تقریر کرنے کا معاملہ اُٹھائیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی الطاف حسین نے رینجرز حکام کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی جس پر الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وزیر داخلہ نے یہ معاملہ بھی برطانوی ہائی کمشنر کے ساتھ اُٹھایا تھا اور سوال کیا تھا کہ اُن کا ایک شہری لندن میں بیٹھ کر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف تقاریر کررہا ہے اس بارے میں برطانوی قانون کیا کہتا ہے۔

اسی بارے میں