’شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں 44 شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر ایجنسی میں ان دنوں فوجی آپریشن خیبر ٹو جاری ہے، جس کا دائرہ کار خیبر ایجنسی سے اورکزئی ایجنسی بڑھا دیا گیا ہے

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فضائی حملوں میں 44 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف تازہ فضائی حملے شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں کیے گئے۔

ضربِ عضب کے بعد شدت پسند کہاں گئے؟

اس سے قبل بھی شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فوج نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی ہے۔

شورش سے متاثرہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستان فوج نے گذشتہ سال سے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب شروع کر رکھا ہے جبکہ خیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن ون اور ٹو کے دوران ایجنسی کے کئی علاقے شدت پسندوں سے خالی کروائے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق سنیچر کو خیبر ایجنسی کی وادیِ تیراہ میں فوج کے جیٹ طیاروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی ہے۔ ان حملوں میں 28 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ہونے والے بیان میں فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں فوج کے فضائی حملے میں 16 شدت پسند مارے گئے ہیں اور مرنے والوں کی اکثریت غیر ملکی شدت پسندوں پر مشتمل ہے۔

خیبر ایجنسی میں جاری خیبر ٹو کا دائرۂ کار خیبر ایجنسی سے بڑھا کر اورکزئی ایجنسی تک کر دیا گیا ہے۔

ادھر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب جاری ہے، جس میں حکام کے مطابق 1200 سے زیادہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں جبکہ بیشتر علاقہ ان مسلح افراد سے صاف کیا جا چکا ہے۔

شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کی وجہ سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، جن میں سے چند خاندان اپنے علاقوں کو واپس بھیجے جا چکے ہیں لیکن بڑی تعداد لوگ اب بھی مشکلات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اسی بارے میں