امام، ادیب، قوم پرست آریسر چل بسے

جئے سندھ تحریک کے پہلے چیئرمین اور ادیب، عبدالواحد آریسر 66 برس کی عمر میں اتوار کو کراچی کے ایک مقامی ہپستال میں انتقال کر گئے ہیں۔

عبدالواحد آریسر گذشتہ کئی سالوں سے ذیابیطیس، عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے ان کے گردوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

عبدالواحد آریسر 11 اکتوبر سنہ 1949 میں عمرکوٹ کے قریب واقع حاسیسر گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔

سندھ میں قوم پرست تحریک کے بانی جی ایم سید کی فکر نے پیش امام عبدالواحد آریسر کو قوم پرست کارکن بنادیا۔

سینئر تجزیہ نگار ناز سھتو کے مطابق حیدرآباد کے قریب واقع مدرسہ بھینڈو شریف میں تعلیم کے دوران آریسر نے جی ایم سید کے مذاہب کے بارے میں کتاب ’جیسے دیکھا میں نے ‘ کا مطالعہ کیا جس پر مولوی حضرات نے اعتراض کیا اور انھیں مدرسے سے نکال دیا گیا۔

مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا عبیداللہ سندھی سے متاثر عبدالواحد آریسر سجاول کے مدرسے چل گئے، لیکن وہاں بھی انھیں برداشت نہ کیا گیا۔

سنہ 1956 کے آئین میں سندھ، بلوچستان، خیبر پختون خواہ اور پنجاب صوبوں کو ملاکر ایک یونٹ قرار دینے اور صوبائی خود مختیاری چھیننے کے خلاف تحریک میں انھوں نے حصہ لیا اور ایک بار پھر مدرسے سے نکال دیئے گئے۔

عبدالواحد آریسر نے حجرے کو سیاسی مرکز بنا دیا، جو جام ساقی جیسے نامور رہنماؤں کی روپوشی کے دنوں میں پناہ گاہ بھی رہا۔

صحافی ناز سھتو کے مطابق مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد آریسر حیدرآباد کے ایک محلے کی مسجد میں پیش امام ہوگئے اور یہاں حجرے سے انھوں نے پیغام نامی جریدے کا اجرا کیا ، جو قومپرست خیالات کا ترجمان تھا۔

ایوب خان کے دور میں یہاں چھاپہ لگا اور لیتھو مشین برآمد کی گئی۔

جی ایم سید کے بعد سندھ میں عبدالواحد آریسر جئے سندھ تحریک کے دوسرے بڑے رہنما کے طور پر ابھرے۔

سندھ کے نامور ادیب تاج جویو کا کہنا ہے کہ ون یونٹ مخالف تحریک کے بعد تمام آزادی پسندوں نے جئے سندھ محاذ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی اور بطور چیئرمین عبدالواحد آریسر کو منتخب کیا گیا۔

Image caption عبدالواحد آریسر نے حجرے کو سیاسی مرکز بنا دیا، جو جام ساقی جیسے نامور رہنماؤں کی روپوشی کے دنوں میں پناہ گاہ بھی رہا

تاج جویو کے مطابق جی ایم سید نے ساتھیوں پر واضح کیا کہ آریسر غریب آدمی ہے سب لوگ سوچ لیں پھر یہ نہ کہیں کہ اس کے پاس گاڑی نہیں اور پہنچ نہیں پائے۔

اس کے بعد آریسر نے سندھ کے ہر شہر اور قصبے میں پبلک ٹرانسپورٹ، پیدل یا سائیکل پر پہنچ کر جئے سندھ تحریک کا پیغام پہنچایا۔

’جی ایم سید کی تحریک میں سادگی اور رومانس آریسر ہی لایا، جس سے سندھ میں قومپرست سوچ کا شعور آیا اور جی ایم سید کے بعد وہ جئے سندھ تحریک کے دوسرے بڑے رہنما کے طور پر ابھرے۔‘

عبدالواحد آریسر کا شمار ان چند سیاستدانوں میں ہوتا تھا جنھوں نے کسی آمر یا حکومت سے سمجھوتہ نہیں کیا وہ جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاالحق، نواز شریف اور جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں جیل میں رہے۔

تاج جویو کے مطابق وہ پہلے سیاسی سربراہ تھے جنھیں جنرل ضیاالحق کے دور میں کوڑے مارے گئے۔

عبدالواحد آریسر قوم پرست تحریک میں جرائم پیشہ افراد کے مخالف رہے، ان کا کہنا تھا کہ ’کرمنل کبھی بھی رہنما نہیں ہوسکتا۔‘ ان کے اس موقف کی وجہ سے جئے سندھ دھڑا بندی کا بھی شکار ہوئی۔

موجودہ قوم پرستی کے رجحان پر عبدالواحد آریسر کا کہنا تھا کہ پہلے قوم پرستی کے جرم میں کوڑے، قید و بند اور تکلیف برداشت کرنا ہوتی تھی لیکن اب قوم پرستی سستی ہوگئی ہے۔ ہر کوئی قوم پرست ہے بھتہ خوری اور قبضہ گیری کر رہا ہے اور اس پر ریاست کو کوئی اعتراض نہیں اور جو حقیقی قوم پرست ہیں انھیں تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔

چار جیل ڈائریوں، جی ایم سید کی شخصیت اور فکر سمیت عبدالواحد آریسر 30 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ جن میں سے 15 سے زائد پر پابندی عائد کی گئی۔

ناز سھتو کے مطابق ان کا انتقال بھی ایک ایسے روز ہوا ہے جب دنیا میں اظہار آزادی کا دن منایا جارہا ہے۔

عبدالواحد آریسر کا شمار ان چند قوم پرستوں میں ہوتا تھا جو اردو بولنے والوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے سرگرم رہے۔

جی ایم سید نے ایم کیو ایم سے مذاکرات کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی اس میں بھی آریسر شامل تھے۔ سندھ کے سیاسی ، صحافتی اور ادبی حلقوں کی تنقید کے باوجود وہ اپنے موقف پر آخری وقت تک قائم رہے۔

ایک انٹرویو میں آریسر نے کہا تھا کہ اردو بولنے والی آْبادی سندھ کی مستقل رہائشی ہے اور انھیں ہر دور سندھیوں سے لڑانے کی کوشش کی گئی ہے۔

جی ایم سید نے جب اردو بولنے والوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو اسٹیبلشمنٹ نے فریقین میں تصادم کرایا۔

آریسر کا ماننا تھا کہ سندھیوں اور اردو بولنے والوں میں کچھ ایجنٹ ہیں جو دونوں کو قریب نہیں آنے دیتے۔