ذوالفقار مرزا کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

Image caption درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مرزا نے ان کی دکان میں توڑ پھوڑ کی اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر بدین میں پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما اور سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

بدین کے ماڈل تھانے پر تاجر اور پپیلز پارٹی کے رہنما امتیاز میمن کی فریاد پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ذوالفقار مرزا سمیت 20 افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ذوالفقار مرزا نے ان کی دکان میں توڑ پھوڑ کی اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں۔

اس سے پہلے واقعات کے مطابق سی آئی اے پولیس نے ذوالفقار مرزا کے ساتھی ندیم مغل کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ساتھیوں کی مداخلت پر وہ محفوظ رہے۔

بدین میں ذوالفقار مرزا کی قیادت پولیس کے خلاف احتجاج کیا گیا، مظاہرین احتجاج کرتے کرتے مرکزی بازار تک پہنچے اور پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے تاجروں امتیاز میمن اور تاج ملاح کی دکانوں کو تالے لگا دیئے۔

ذوالفقار مرزا اپنے ساتھیوں سمیت ماڈل تھانے پہنچے اور ڈی ایس پی قادر سموں کو پاکستان پیپلز پارٹی کی ضلعی قیادت اور ایس ایس پی بدین خالد کورائی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا۔

پولیس حکام کی جانب سے مقدمہ نہ درج کرنے پر ذوالفقار مرزا ڈی ایس پی کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی۔

ٹی وی چینل پر دکھائے گئے مناظر کے مطابق ڈاکٹر مرزا نے ہاتھ میز پر مارکر شیشہ توڑ دیا اور ڈی ایس پی کا موبائیل فون اٹھاکر دیوار پر مارا، جس کے بعد ڈاکٹر مرزا اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں سے چلے گئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور تاجروں نے ماڈل تھانے پر دھرنا دیا، جس کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سمیت 20 افراد پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں پہلے سیاسی اور اب ذاتی اختلافات سامنے آرہے ہیں۔

Image caption یاد رہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں پہلے سیاسی اور اب ذاتی اختلافات سامنے آرہے ہیں

انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہوا ہے۔ ذوالفقار مرزا نے نیوز چینلز اور تقاریر میں اپنے دوست اور سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال ٹالپور پر ذاتی تنقید بھی کی۔جس کے بعد پیپلز پارٹی نےان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

گذشتہ ہفتے یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ماضی کے بزنس پارنٹر اور دوست آصف علی زرداری اور ذوالفقار مرزا کے درمیان مفاہمت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم آصف علی زرداری کی بیٹی آصفہ کا یہ ٹوئٹ سامنے آئی تھی جس میں کہا تھا کہ ذوالفقار مرزا سے کوئی مفاہمت نہیں ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین اراکین اسمبلی شہلا رضا اور شرمیلا فاروقی نے پریس کانفرنس میں ذوالفقار مرزا کو ’جھیل کا پرندہ ‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنے جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ بدین سے ڈاکٹر مرزا کی بیگم ڈاکٹر فہمیدہ مرزا رکن قومی اور بیٹا حسنین مرزا رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔

اسی بارے میں