اپ گریڈیشن کے حق میں فاٹا اساتذہ کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے اساتذہ نے اپنےگریڈز کی ترقی یعنی اپ گریڈیشن کے مطالبے کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے پیر کو فاٹا سیکریٹریٹ کے سامنے ٹائر جلا کر سڑک بند کر دی۔

ان اساتذہ کا کہنا تھا کہ ان کی اپ گریڈیشن دو سال پہلے کی گئی تھی تاہم ابھی تک اس کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ان کا موقف تھا کہ حکومت نے ان احکامات پرعمل درآمد روک دیا ہے۔

آل فاٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر خان ملک محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنے اساتذہ کی اگلےگریڈز میں ترقی کر دی ہے اور فاٹا کے اساتذہ کی نوکریاں بھی صوبائی حکومت کے سروس سٹرکچر کے مطابق ہیں تاہم وفاقی حکومت اس پر عمل درآمد نہیں کر رہی۔

انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں ہے کہ ان کی اپ گریڈیشن ہو گئی ہے یا نہیں اور اس حوالے سے فاٹا کے اساتذہ تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ ان کے مساوی خیبر پختونخوا کے اساتذہ کو جو سہولیات دستیاب ہیں وہ فاٹا کے اساتذہ کو حاصل نہیں ہیں۔

خان ملک محسود نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ قبائلی علاقوں سے لے کر پشاور تک تمام شہروں میں احتجاج کریں گے۔

ان اساتذہ نے پیر کو ورسک روڈ پر فاٹا سیکیرٹیریٹ کے سامنے ٹائروں کوآگ لگا کر سڑک بلاک کر دی جس سے علاقے میں ٹریفک جام ہو گیا۔

ورسک روڈ پر موجود وانہ سے تعلق رکھنے والے ایک استاد رشید خان نے بتایا کہ انھیں سخت مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے گریڈز میں ترقی ان کا حق ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے لیے قبائلی علاقوں میں صورتِ حال کوئی زیادہ پر امن نہیں ہے جبکہ فاٹا کے اساتذہ کو امن و امان کے علاوہ مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہے لیکن وفاقی حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب حکومت قبائلی علاقوں میں اصلاحات کی بات کرتی ہے تو یہ اصلاحات تو اساتذہ کےذریعے بہتر طریقے سے لائی جا سکتی ہیں تاہم اس علاقے کے اساتذہ کو کوئی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں