سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرارداد کی کوشش ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایم کیو ایم کے قائد نے اپنے بیان کے بعد معافی مانگ لی تھی

سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف قرارداد لانے کی کوشش ناکام ہو گئی، جس کے بعد ایم کیو ایم کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ایوان سے علامتی بائیکاٹ کیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتےالطاف حسین کی جانب سے فوج کے خلاف اشتعال انگیز بیانات پر بلوچستان اسمبلی نے مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے

قانونی چارہ جوئی کریں گے

مسلم لیگ فنکشنل کے رکن شہریار مہر پیر کو شروع ہونے والے اجلاس میں الطاف حسین کے خلاف قرار داد پیش کرنے کے لیے اپنی نشست پر کھڑے ہوئے لیکن سپیکر آغا سراج درانی نے یہ کہہ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ ’رولز آف بزنس کے تحت ایوان میں پہلے وقفہ سوالات ہو گا۔‘

اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے اراکین نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہوکر احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، جس کے بعد وہ بائیکاٹ کر کےایوان سے باہر چلے گئے۔

اس سے پہلے شہریار مہر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرح الطاف حسین نے تقریر کی ہے، اس کے خلاف ملک کی دیگر اسمبلیوں میں قرار دادیں پیش کی جارہی ہیں ان کی بھی کوشش ہے کہ یہاں قرارداد لائیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان کی حمایت کرے گی۔

شہریار مہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آج ثابت ہوجائے گا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ایک ہی فریکوئنسی پر ہیں یا یہ دونوں الگ الگ جماعتیں ہیں اور اپنے سیاسی ایجنڈے پر چل رہی ہیں۔‘

خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نےگذشتہ جمعرات کو لندن سے اپنے ایک خطاب میں فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

الطاف حسین کے بیان پر فوجی قیادت نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد الطاف حسین نے کہا تھا کہ اگر اُن کے الفاظ سے قومی سلامتی کے اداراوں سے وابستہ افراد کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معافی کے طلبگار ہیں۔

الطاف حسین نے بھارتی خفیہ ادارے را سے مدد طلب کرنے کے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی تقریر کوسیاق و سباق سے ہٹ کر پڑھا گیا ہے۔

بعد میں وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کا خیال رکھنا حکومتی ذمہ داری ہے اور اس طرح کے غیر محتاط بیانات سے قومی اداروں کا وقار مجروح ہوتا ہے۔

اسی بارے میں